تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 12

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۲﴾
اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پس اگر تم پھر جاؤ تو ہمارے رسول کے ذمے تو صرف کھلم کھلا پہنچا دینا ہے۔ En
اور خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے
En
(لوگو) اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نواہی سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ﴿ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے روگردانی کرو ﴿ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْ٘بَلٰ٘غُ٘ الْمُبِیْنُ تو ہمارے رسول تو صرف پر کھول کر پہنچادینا ہے۔ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمھاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمھیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے، تمھاری ہدایت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے نہ تمھارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمھارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {وأطيعوا الله وأطيعوا الرسولَ}؛ أي: في امتثال أمرهما واجتناب نهيهما؛ فإنَّ طاعة الله وطاعة رسولِهِ مدارُ السعادة وعنوانُ الفلاح، {فإن تولَّيْتُم}؛ أي: عن طاعة الله وطاعة رسوله، {فإنَّما على رسولنا البلاغُ المبينُ}؛ أي: يبلِّغُكم ما أرسل به إليكم بلاغاً بيِّناً واضحاً، فتقوم عليكم به الحجَّة، وليس بيده من هدايتكم ولا من حسابكم شيءٌ ، وإنَّما يحاسبكم على القيام بطاعة الله وطاعة رسوله أو عدم ذلك، عالمُ الغيب والشهادة.