تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمْ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوْاثُمَّكَفَرُوْافَ٘طُ٘بِـعَعَلٰىقُلُوْبِهِمْ﴾”وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔“ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمْلَایَفْقَهُوْنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ذلك}: الذي زين لهم النفاق، {بـ} سبب {أنَّهم} لا يَثْبُتون على الإيمان، بل {آمنوا ثم كفروا فَطُبِعَ على قلوبهم}: بحيث لا يدخلها الخيرُ أبداً. {فهم لا يَفْقَهون}: ما ينفعهم ولا يَعونَ ما يعودُ بمصالحهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔