تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المنافقون (63) — آیت 3

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۳﴾
یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔ En
یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔ سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں
En
یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان ﻻکر پھر کافر ہوگئے پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ اب یہ نہیں سمجھتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذٰلِكَ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمْ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَ٘طُ٘بِـعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك}: الذي زين لهم النفاق، {بـ} سبب {أنَّهم} لا يَثْبُتون على الإيمان، بل {آمنوا ثم كفروا فَطُبِعَ على قلوبهم}: بحيث لا يدخلها الخيرُ أبداً. {فهم لا يَفْقَهون}: ما ينفعهم ولا يَعونَ ما يعودُ بمصالحهم.