اور جب تو انھیں دیکھے تجھے ان کے جسم اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات پر کان لگائے گا، گویا وہ ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں۔ یہی اصل دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہ۔ اللہ انھیں ہلاک کرے، کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔
En
اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی) اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو (مگر فہم وادراک سے خالی) گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر بلا آئی۔ یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں، یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں، ہر (سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِذَارَاَیْتَهُمْتُعْجِبُكَاَجْسَامُهُمْ﴾”اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔“ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنْیَّقُوْلُوْاتَ٘سْمَعْلِقَوْلِهِمْ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ كَاَنَّهُمْخُشُبٌمُّسَنَّدَةٌ﴾”گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔“ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ یَحْسَبُوْنَكُ٘لَّصَیْحَةٍعَلَیْهِمْ﴾”وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔“ اور یہ ان کی بز دلی، خوف، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُالْعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحْذَرْهُمْ١ؕقٰتَلَهُمُاللّٰهُ١ٞاَنّٰىیُؤْفَكُوْنَ﴾”پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟“ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذا رأيتَهم تُعْجِبُكَ أجسامُهم}: من روائها ونضارتها، {وإن يقولوا تَسْمَعْ لقولِهم}؛ أي: من حسن منطقهم تستلذُّ لاستماعه؛ فأجسامُهم وأقوالُهم معجبةٌ، ولكن ليس وراء ذلك من الأخلاق الفاضلة والهَدي الصالح شيءٌ، ولهذا قال: {كأنَّهم خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ}: لا منفعة فيها ولا يُنال منها إلاَّ الضَّرر المحض. {يَحْسَبون كلَّ صيحةٍ عليهم}: وذلك لجبنهم وفزعهم وضعف قلوبِهم ورَيْبها ؛ يخافون أن يُطَّلع عليها؛ فهؤلاء {هم العدو} على الحقيقة؛ لأنَّ العدوَّ البارز المتميِّز أهونُ من العدوِّ الذي لا يشعَر به، وهو مخادعٌ ماكرٌ، يزعم أنَّه وليٌّ، وهو العدو المبين. {فاحذَرْهم قاتَلَهُمُ الله أنَّى يُؤْفَكونَ}؛ أي: كيف يُصْرَفُون عن الدين الإسلاميِّ بعدما تبينت أدلَّته واتَّضحت معالمه إلى الكفر الذي لا يُفيدهم إلاَّ الخسار والشقاء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔