تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المنافقون (63) — آیت 2

اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲﴾
انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا۔ یقینا یہ لوگ جو کچھ کرتے رہے ہیں برا ہے۔ En
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں
En
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اللہ کی راه سے رک گئے بیشک برا ہے وه کام جو یہ کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِتَّؔخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{اتَّخذوا أيمانَهم جُنَّة}؛ أي: ترساً يتترَّسون بها من نسبتهم إلى النفاق، فصدُّوا عن سبيله بأنفسهم، وصدُّوا غيرهم ممَّن يخفى عليه حالُهم. {إنَّهم ساء ما كانوا يعملونَ}: حيث أظهروا الإيمان وأبطنوا الكفر وأقسموا على ذلك وأوهموا صدقهم.