تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِتَّؔخَذُوْۤااَیْمَانَهُمْجُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوْاعَنْسَبِیْلِاللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمْسَآءَمَاكَانُوْایَعْمَلُوْنَ﴾” کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔“ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{اتَّخذوا أيمانَهم جُنَّة}؛ أي: ترساً يتترَّسون بها من نسبتهم إلى النفاق، فصدُّوا عن سبيله بأنفسهم، وصدُّوا غيرهم ممَّن يخفى عليه حالُهم. {إنَّهم ساء ما كانوا يعملونَ}: حيث أظهروا الإيمان وأبطنوا الكفر وأقسموا على ذلك وأوهموا صدقهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔