تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجمعة (62) — آیت 10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانۡتَشِرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ ابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰﴾
پھر جب نماز پوری کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے (حصہ) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ En
پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
En
پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

خرید و فروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔﴿ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ کام کاج اور تجارت کے لیے، چونکہ تجارت میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا الأمر بترك البيع موقَّت مدَّة الصلاة؛ {فإذا قُضِيَتِ الصلاةُ فانتشروا في الأرض}: لطلب المكاسب والتجارات، ولما كان الاشتغال بالتجارة مَظِنَّةُ الغفلة عن ذكر الله؛ أمر الله بالإكثار من ذكره؛ لينجبر بهذا، فقال: {واذكروا الله كثيراً}؛ أي: في حال قيامكم وقعودكم وعلى جنوبكم، {لعلَّكم تفلحون}: فإنَّ الإكثار من ذِكْر الله أكبر أسباب الفلاح.