تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجمعة (62) — آیت 6

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ ہَادُوۡۤا اِنۡ زَعَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ اَوۡلِیَآءُ لِلّٰہِ مِنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶﴾
کہہ دے اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو! اگر تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم ہی اللہ کے دوست ہو (دوسرے) لوگوں کے سوا تو موت کی تمنا کرو، اگر تم سچے ہو۔ En
کہہ دو کہ اے یہود اگر تم کو دعویٰ ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں تو اگر تم سچے ہو تو (ذرا) موت کی آرزو تو کرو
En
کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے سوا تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ تو تم موت کی آرزو کرو۔ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن ظلم اليهود وعنادهم أنَّهم يعلمون أنَّهم على باطل ويزعمون أنَّهم على حقٍّ، وأنَّهم أولياء لله من دون الناس! ولهذا أمر الله رسوله أن يقولَ لهم: إن كنتُم صادقين في زعمِكُم أنَّكم على الحقِّ وأولياء الله؛ {فَتَمَنَّوُا الموتَ}: وهذا أمرٌ خفيفٌ؛ فإنَّهم لو علموا أنَّهم على حقٍّ؛ لما توقَّفوا عن هذا التحدِّي الذي جعله الله دليلاً على صدقهم إن تَمَنَّوْه و كَذِبِهم إن لم يَتَمَنَّوْه.