تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجمعة (62) — آیت 4

ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۴﴾
یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے ۔ En
یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
En
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے اپنا فضل دے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من عزَّته وحكمته؛ حيث لم يترك عباده هَمَلاً ولا سُدىً، بل ابتعث فيهم الرسل وأمرهم ونهاهم، وذلك من [فضل اللَّه العظيم] الذي يؤتيه مَن يشاءُ من عباده، وهو أفضل من نعمته عليهم بعافية البدن وسعة الرزق وغير ذلك من النِّعم الدُّنيوية؛ فلا أفضل من نعمة الدين التي هي مادة الفوز والسعادة الأبديَّة.