ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجمعة (62) — آیت 4

ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۴﴾
یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے ۔ En
یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
En
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے اپنا فضل دے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ …:} یعنی اُمیوں میں نبی مبعوث کرنا اور اسے بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے رسول بنانا اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، وہ یہود یا کسی اور کی خواہش کا پابند نہیں کہ اسی کو اپنے فضل سے نوازے جسے وہ چاہیں اور نہ ہی یہ کسی کی محنت و کوشش پر موقوف ہے کہ کوئی ریاضت اور محنت کے ساتھ نبوت کا منصب حاصل کر لے، بلکہ یہ سراسر اللہ کے انتخاب اور اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ» ‏‏‏‏ [الحج: ۷۵] اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۱۲۴] اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۰۵] اور اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یہ اشارہ نبوت محمدی کی طرف ہوسکتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی طرف بھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا [8] ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے
[8] یہود اگر جلتے ہیں تو جلتے رہیں۔ وہ کوئی اللہ کے فضل کے ٹھیکیدار نہیں ہیں کہ رسول اگر آنا تھا تو انہی کی قوم میں سے آنا چاہیے تھا۔ اور یہ فضل بھی کیا کم ہے کہ تا قیامت تمام روئے زمین کی قیادت پیغمبر اسلام اور آپ کی امت کے سپرد کر دی گئی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من عزَّته وحكمته؛ حيث لم يترك عباده هَمَلاً ولا سُدىً، بل ابتعث فيهم الرسل وأمرهم ونهاهم، وذلك من [فضل اللَّه العظيم] الذي يؤتيه مَن يشاءُ من عباده، وهو أفضل من نعمته عليهم بعافية البدن وسعة الرزق وغير ذلك من النِّعم الدُّنيوية؛ فلا أفضل من نعمة الدين التي هي مادة الفوز والسعادة الأبديَّة.