تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجمعة (62) — آیت 3

وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾
اور ان میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (آپ کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (ان کو بھیجا ہے) جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
En
اور دوسروں کے لیے بھی انہیں میں سے جو اب تک ان سے نہیں ملے۔ اور وہی غالب باحکمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {وآخرين منهم لَمَّا يَلْحَقوا بهم}؛ أي: وامتنَّ على آخرين من غيرهم، أي: من غير الأمِّيِّين ممَّن يأتي بعدهم ومن أهل الكتاب {لما يلحقوا بهم}؛ أي: فيمن باشر دعوة الرسول؛ يحتمل أنَّهم لَمَّا يلحقوا بهم في الفضل، ويحتمل أن يكونوا لمَّا يلحقوا بهم في الزمان، وعلى كلٍّ؛ فكلا المعنيين صحيحٌ؛ فإن الذين بعث الله فيهم رسوله وشاهدوه وباشروا دعوته حصل لهم من الخصائص والفضائل ما لا يمكن أحداً أن يلحقَهم فيها.