وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے ۔
En
وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں ان ہی میں سے (محمدﷺ) کو پیغمبر (بنا کر) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس ے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے
وہی ہے جس نے ناخوانده لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَلْاُمِّیّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ یَتْلُوْاعَلَیْهِمْاٰیٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَیُزَؔكِّیْهِمْ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَیُعَلِّمُهُمُالْكِتٰبَوَالْحِكْمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{هو الذي بَعَثَ في الأمِّيِّين رسولاً}: المراد بالأمِّيِّين الذين لا كتاب عندهم ولا أثر رسالة من العرب وغيرهم ممَّن ليسوا من أهل الكتاب، فامتنَّ الله تعالى عليهم منَّةً عظيمةً أعظم من منَّته على غيرهم؛ لأنهم عادمون للعلم والخير، وكانوا في {ضلال مبين}؛ يتعبدون للأصنام والأشجار والأحجار، ويتخلَّقون بأخلاق السباع الضارية، يأكل قويُّهم ضعيفَهم، وقد كانوا في غاية الجهل بعلوم الأنبياء، فبعث الله فيهم رسولاً منهم يعرِفون نسبه وأوصافه الجميلة وصدقه، وأنزل عليه كتابه، {يَتْلو عليهم آياتِهِ}: القاطعة الموجبة للإيمان واليقين، {ويزكِّيهم}: بأن يفصِّل لهم الأخلاق الفاضلة ويحثَّهم عليها ويزجرهم عن الأخلاق الرذيلة، {ويعلِّمُهم الكتاب والحكمة}؛ أي: علم الكتاب والسنة، المشتمل على علوم الأوَّلين والآخرين، فكانوا بعد هذا التعليم والتزكية من أعلم الخلق، بل كانوا أئمة أهل العلم والدين وأكمل الخلق أخلاقاً وأحسنهم هدياً وسمتاً، اهتدوا بأنفسهم، وهَدَوا غيرهم، فصاروا أئمة المهتدين وقادة المتقين ، فلله تعالى عليهم ببعثة هذا الرسول أكملُ نعمة وأجلُّ منحة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔