تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجمعة (62) — آیت 1

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ الۡمَلِکِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾
اللہ کا پاک ہونا بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ، (جو) بادشاہ ہے، بہت پاک ہے، سب پر غالب ہے، کمال حکمت والا ہے ۔ En
جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے
En
(ساری چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاه نہایت پاک (ہے) غالب وباحکمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں، اس کو معبود مانتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں، کیونکہ وہ بادشاہ کامل ہے، جس کی عالم علوی اور عالم سفلی پر بادشاہی ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک اور اس کی تدبیر کے تحت ہے۔
﴿ الْقُدُّوْسِ عظمت والا، ہر نقص اور ہر آفت سے پاک ہے ﴿ الْ٘عَزِیْزِ تمام اشیاء پر غالب ہے۔ ﴿ الْحَكِیْمِ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت والا ہے۔ یہ عظیم اوصاف اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الملكِ القدوسِ العزيزِ الحكيمِ}؛ أي: يسبح لله وينقاد لأمره ويتألَّهه ويعبده جميعُ ما في السموات والأرض؛ لأنَّه الكامل الملك، الذي له ملك العالم العلويِّ والسفليِّ؛ فالجميعُ مماليكه وتحت تدبيره. القُدُّوس المعظَّم المنزَّه عن كل آفة ونقص. العزيز القاهر للأشياء كلِّها. الحكيم في خلقه وأمره؛ فهذه الأوصاف العظيمة تدعو إلى عبادة الله وحدَه لا شريك له.