اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں، کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشے سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
En
اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے اور خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس جو ہے وه کھیل اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِذَارَاَوْاتِجَارَةًاَوْلَهْوَنِاانْفَضُّوْۤااِلَیْهَا﴾”جب وہ کوئی سودا بکتا یا لہو ولعب دیکھتے ہیں تو اس لہو ولعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں ﴿ وَتَرَؔكُوْكَقَآىِٕمًا﴾ اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو (جمعہ کا) خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا۔ جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا، جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کر مناسب نہ تھا۔﴿قُ٘لْمَاعِنْدَاللّٰهِ ﴾”کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے، جو اجر و ثواب ہے ﴿ خَیْرٌمِّنَاللَّهْوِوَمِنَالتِّؔجَارَةِ﴾ وہ لہو و لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگر چہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کر دینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذا رَأوْا تجارةً أو لهواً انفضُّوا إليها}؛ أي: خرجوا من المسجد حرصاً على ذلك اللهو وتلك التجارة وتركوا الخير، {وتركوكَ قائماً}: تخطُبُ الناس، وذلك في يوم الجمعة، بينما النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يخطب الناس؛ إذ قَدِمَ المدينةَ عيرٌ تحمل تجارةً، فلمَّا سمع الناس بها وهم في المسجد؛ انفضُّوا من المسجد ، وتركوا النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - يخطبُ استعجالاً لما لا ينبغي أن يُستعجل له وترك أدب، {قل ما عندَ الله}: من الأجر والثواب لمن لازم الخير وصَبَّرَ نفسَه على عبادة الله ، {خيرٌ من اللهوِ ومن التجارةِ}: التي وإن حَصَلَ منها بعض المقاصد؛ فإنَّ ذلك قليلٌ منقضٍ ، مفوتٌ لخير الآخرة، وليس الصبر على طاعة الله مفوتاً للرزق؛ {فإنَّ الله خير الرازقين}؛ فمن اتَّقى الله؛ رزقه من حيث لا يحتسب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔