تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصف (61) — آیت 8

یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے،اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔ En
یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے (چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں۔ حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں
En
وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے واﻻ ہے گو کافر برا مانیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْ٘كٰفِرُوْنَ اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال [اللَّه] عنهم: {يريدونَ لِيُطْفِئوا نورَ الله بأفواههم}؛ أي: بما يَصْدُرُ منهم من المقالات الفاسدة التي يردُّون بها الحقَّ، وهي لا حقيقة لها، بل تزيد البصير معرفةً بما هم عليه من الباطل، {والله متمُّ نورِهِ ولو كَرِهَ الكافرونَ}؛ أي: قد تكفَّل الله بنصر دينه وإتمام الحقِّ الذي أرسل به رسلَه وإظهار نورِهِ في سائر الأقطار، ولو كَرِهِ الكافرونَ، وبَذَلوا بسبب كراهته كلَّ ما قدروا عليه مما يتوصَّلون به إلى إطفاء نور الله؛ فإنَّهم مغلوبون، ومَثَلُهم كمثل مَن ينفخ عين الشمس بفيه ليطفِئَها؛ فلا على مرادهم حصلوا، ولا سلمتْ عقولهم من النقص والقدح فيها.