تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصف (61) — آیت 7

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُوَ یُدۡعٰۤی اِلَی الۡاِسۡلَامِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷﴾
اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، جب کہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ En
اور اس سے ظالم کون کہ بلایا تو جائے اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
En
اس شخص سے زیاده ﻇالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ (افترا) باندھے حاﻻنکہ وه اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ ایسے ﻇالموں کو ہدایت نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومن أظلمُ ممَّنِ افترى على الله الكذب}: بهذا أو غيره والحال أنه لا عذر له وقد انقطعت حجته لأنه {يدعى إلى الإسلام}: ويُبَيَّن له ببراهينه وبيناته، {واللهُ لا يهدي القوم الظالمينَ}: الذين لا يزالون على ظلمهم مستقيمين، لا تردُّهم عنه موعظةٌ ولا يزجُرُهُم بيانٌ ولا برهانٌ، خصوصاً هؤلاء الظَّلمة القائمين بمقابلة الحقِّ ليردُّوه، ولينصروا الباطل.