یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے،اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔
En
یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے (چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں۔ حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں
En
وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے واﻻ ہے گو کافر برا مانیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 9،8) { يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ …:} ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (33,32) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 نور سے مراد قرآن، یا اسلام یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، یا دلائل وبراہین ہیں ' منہ سے بجھا دیں ' کا مطلب ہے، وہ طعن کی وہ باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہیں۔ 8۔ 2 یعنی اس کو آفاق میں پھیلانے والا اور دوسرے تمام دینوں پر غالب کرنے والا ہے۔ دلائل کے لحاظ سے، یا مادی غلبے کے لحاظ سے یا دونوں لحاظ سے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ خواہ کافروں کو کتنا ہی [10] ناگوار ہو
[10] اسلام کو نیست و نابود کرنے کے لیے دشمن اقوام کے منصوبے :۔
اس آیت کی مخاطب ساری ہی دشمن اسلام قومیں ہیں۔ خواہ وہ عیسائی ہوں یا یہودی یا مشرکین ہوں یا منافقین۔ فتح مکہ سے پہلے تک یہ سب طاقتیں یہی سمجھ رہی تھیں کہ اسلام بس ایک ٹمٹماتا چراغ ہے۔ جو ہوا کے ایک ہی جھونکے سے بجھ سکتا ہے اور بجھ جائے گا۔ بلکہ فتح مکہ کے بعد یہ تاثر پوری طرح زائل نہ ہوا۔ فتح مکہ کے بعد قبیلہ ثقیف اور ہوازن نے اسی ارادہ سے جنگ کی کہ اسلام کو ملیا میٹ کر دیں۔ پھر اس کے بعد ایک عامر نامی عیسائی راہب نے منافقین مدینہ سے ساز باز کی اور قیصر روم کو مسلمانوں پر چڑھا لانے کے لیے روانہ ہو گیا۔ جس کے نتیجہ میں غزوہ تبوک بپا ہوا۔ روایات کے مطابق اس موقع پر عیسائیوں کے دو لاکھ افراد پر مشتمل لشکر کا آنا متوقع تھا۔ لیکن اللہ نے انہیں میدان مقابلہ میں آنے کی توفیق ہی نہ دی۔ سب اسلام دشمن طاقتیں آغاز اسلام سے لے کر جلتی بھنتی اور کڑھتی ہی رہیں اور انجام کار یہ ہوا کہ اسلام کی روشنی سارے عرب پھر اس کے بعد ساری دنیا میں پھیل گئی۔ واضح رہے کہ یہ آیات اس دور میں نازل ہوئیں جبکہ اسلام کا مستقبل بالکل مبہم تھا اور بعض غیر جانبدار قسم کے قبائل اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ٭٭
ارشاد ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک و سہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ ‘ اگر یہ شخص بےخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کر دیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بے نور کرتا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہو جائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا، کافر برا مانیں تو مانتے رہیں۔ اس کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے دین کی حقانیت کو واضح فرمایا، ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر سورۃ برأت میں گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ﴾ ”وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔“ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْ٘كٰفِرُوْنَ﴾ ”اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال [اللَّه] عنهم: {يريدونَ لِيُطْفِئوا نورَ الله بأفواههم}؛ أي: بما يَصْدُرُ منهم من المقالات الفاسدة التي يردُّون بها الحقَّ، وهي لا حقيقة لها، بل تزيد البصير معرفةً بما هم عليه من الباطل، {والله متمُّ نورِهِ ولو كَرِهَ الكافرونَ}؛ أي: قد تكفَّل الله بنصر دينه وإتمام الحقِّ الذي أرسل به رسلَه وإظهار نورِهِ في سائر الأقطار، ولو كَرِهِ الكافرونَ، وبَذَلوا بسبب كراهته كلَّ ما قدروا عليه مما يتوصَّلون به إلى إطفاء نور الله؛ فإنَّهم مغلوبون، ومَثَلُهم كمثل مَن ينفخ عين الشمس بفيه ليطفِئَها؛ فلا على مرادهم حصلوا، ولا سلمتْ عقولهم من النقص والقدح فيها.