تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الممتحنة (60) — آیت 10

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡہُنَّ ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِہِنَّ ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡہُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡہُنَّ اِلَی الۡکُفَّارِ ؕ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ ؕ وَ اٰتُوۡہُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ؕ وَ لَا تُمۡسِکُوۡا بِعِصَمِ الۡکَوَافِرِ وَ سۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَ لۡیَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ حُکۡمُ اللّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو، اللہ ان کے ایمان کو زیادہ جاننے والا ہے ۔پھر اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، نہ یہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہوں گے۔ اور انھیں دے دو جو انھوں نے خرچ کیا ہے اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کر لو، جب انھیں ان کے مہر دے دو۔ اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہے اور وہ (کفار) مانگ لیں جو انھوں نے خرچ کیا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہ تمھارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو۔ کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو۔ اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو واپس دے دو) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو تم ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کئے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے
En
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان لو۔ دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے واﻻ تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وه تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وه ان کے لیے حلال ہیں، اور جو خرچ ان کافروں کا ہوا ہو وه انہیں ادا کردو، ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناه نہیں اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو، مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو وه بھی مانگ لیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ بڑے علم (اور) حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کر دیا جائے گا۔ یہ عام اور مطلق لفظ تھا، جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں۔ مردوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدۂ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا، جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔
رہی عورتیں تو چونکہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے ان کے پاس آئیں، اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیا کریں، تاکہ سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے، ان کی صداقت ظاہر ہو جائے، کیونکہ اس بات کا احتمال ہو سکتا ہے کہ ان کے ایمان میں صداقت نہ ہو، بلکہ شوہر یا شہر وغیرہ دنیاوی مقاصد کے لیے ہجرت کی ہو، اگر ان میں یہ وصف پایا جائے، تو ایفائے شرط کے لیے کسی خرابی کے حصول کے بغیر ان کا واپس کیا جانا طے شدہ ہے۔ اگر اہل ایمان نے ان کو جانچ لیا اور ان کو سچا پایا ہو، یا جانچ پڑتال کے بغیر ہی اہل ایمان کو ان کے مومن ہونے کا علم ہو، تو وہ ان عورتوں کو کفار کی طرف واپس نہ بھیجیں ﴿ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَ٘هُنَّ یہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں نہ وہ (کافر) ان کے لیے۔ یہ بہت بڑی خرابی ہے جس کی شارع نے رعایت رکھی ہے، شارع نے ایفائے شرط کی بھی رعایت رکھی کہ ان عورتوں کے عوض میں ان کے کفار شوہروں کو وہ مہر اور اس کے توابع وغیرہ واپس لوٹا دیے جائیں جو انھوں نے ان عورتوں پر خرچ کیے ہیں۔ تب مسلمانوں کے لیے، ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ دارالشرک میں ان کے (مشرک) شوہر موجود ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان عورتوں کو مہر اور نان و نفقہ ادا کریں۔
جس طرح مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں، اسی طرح اہل کتاب کے سوا کافر عورت، جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہے، مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں، اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ اور تم کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو۔ جب اللہ تعالیٰ نے کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں رکھنے سے منع کیا ہے تب ان کے ساتھ نکاح کی ابتدا تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے ﴿ وَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ اے مومنو! جب تمھاری مرتد بیویاں کفار کی طرف واپس لوٹیں تو ان سے اس مال کا مطالبہ کرو، جو تم نے ان پر خرچ کیا ہے۔ جب کفار اپنی ان عورتوں کو عطا کیا ہو امہر وصول کر سکتے ہیں، جو مسلمان ہو گئی ہوں، تب اس کے مقابلے مسلمان بھی اس مہر کو وصول کرنے کے مستحق ہیں جو ان کی (مرتد) بیویوں کے ساتھ کفار کے پاس گیا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کی زوجیت سے نکلنا قیمت رکھتا ہے، اگر کوئی فاسد کرنے والا عورت کے نکاح کو رضاعت یا کسی اور سبب کی بنا پر فاسد کر دے، تو اس کے مہر کی ضمان ہے، یعنی مہر کی ادائیگی ضروری ہے ﴿ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ یعنی یہ فیصلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، جو اس نے تمھارے سامنے بیان کر کے واضح کیا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ اور اللہ تعالیٰ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون سے احکام تمھارے لیے درست ہیں، پس وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق اپنے احکام مشروع کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما كان صلح الحديبية؛ صالَحَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - المشركين على أنَّ مَن جاء منهم إلى المسلمين مسلماً؛ أنَّه يردُّ إلى المشركين، وكان هذا لفظاً عامًّا مطلقاً يدخل في عمومه النساء والرجال، فأمَّا الرجال؛ فإنَّ الله لم ينه رسولَه عن ردِّهم إلى الكفار وفاءً بالشرط وتتميماً للصلح الذي هو من أكبر المصالح، وأمَّا النساءُ؛ فلمَّا كان ردُّهنَّ فيه مفاسد كثيرةٌ؛ أمرَ المؤمنين إذا جاءهم {المؤمناتُ مهاجراتٍ}: وشَكُّوا في صدق إيمانهنَّ أن يمتحنوهنَّ ويختبروهنَّ بما يظهر به من صدقهنَّ من أيمانٍ مغلظةٍ وغيرها؛ فإنَّه يُحْتمل أن يكون إيمانُها غيرَ صادقٍ، بل رغبةً في زوج أو بلدٍ أو غير ذلك من المقاصد الدنيويِّة؛ فإنْ كُنَّ بهذا الوصف؛ تعيَّن ردُّهنَّ وفاءً بالشرط من غير حصول مفسدةٍ؛ وإن امتحنوهنَّ فوجدنَ صادقاتٍ، أو علموا ذلك منهنَّ من غير امتحانٍ؛ فلا يَرْجِعوهنَّ إلى الكفار. {لا هنَّ حلٌّ لهم ولا هم يَحِلُّون لهنَّ}: فهذه مفسدةٌ كبيرةٌ [في ردهنَّ] راعاها الشارع وراعى أيضاً الوفاء بالشرط؛ بأن يُعطوا الكفار أزواجهنَّ ما أنفقوا عليهنَّ من المهر وتوابعه عوضاً عنهنَّ، ولا جناح حينئذٍ على المسلمين أن ينكحوهنَّ، ولو كان لهنَّ أزواجٌ في دار الشرك، ولكن بشرطِ أن يؤتوهنَّ أجورهنَّ من المهر والنفقة، وكما أنَّ المسلمة لا تحلُّ للكافر؛ فكذلك الكافرة لا تحلُّ للمسلم [أن يمسكها] ما دامت على كفرها؛ غير أهل الكتاب، ولهذا قال تعالى: {ولا تُمسِكوا بعِصَم الكَوافِرِ}. وإذا نهي عن الإمساك بعصمتها؛ فالنهي عن ابتداء تزويجها أولى، {واسألوا ما أنفقتم}: أيُّها المؤمنون حين ترجِعُ زوجاتكم مرتداتٍ إلى الكفار؛ فإذا كان الكفار يأخذون من المسلمين نفقة من أسلمت من نسائهم؛ استحقَّ المسلمون أن يأخذوا مقابلة ما ذهب من زوجاتهم إلى الكفار.

وفي هذا دليلٌ على أنَّ خُروجَ البُضْع من الزوج متقوَّمٌ؛ فإذا أفسد مفسدٌ نكاح امرأة رجل برضاع أو غيره؛ كان عليه ضمانُ المهرِ.

وقوله: {ذلكم حكم الله}؛ أي: ذلكم الحكم الذي ذكره الله وبيَّنه لكم حكمُ الله؛ بيَّنه لكم ووضَّحه. {والله عليمٌ حكيمٌ}: فيعلم تعالى ما يصلح لكم من الأحكام، فيشرعه بحسب حكمته ورحمته.