تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ حدیبیہ کے موقع پر کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے صلح کی جو شرائط طے کی تھیں ان میں سے ایک شرط جو مسلمانوں کو منظور نہ تھی مگر سہیل نے اس کے بغیر صلح کرنے سے انکار کر دیا، یہ تھی: [لاَ يَأْتِيْكَ مِنَّا أَحَدٌ وَ إِنْ كَانَ عَلٰی دِيْنِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۸۰،۴۱۸۱] ”ہم میں سے جو بھی آپ کے پاس آئے گا خواہ وہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہماری طرف واپس کریں گے اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دیں گے۔“ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف دیکھیے کہ سہیل اس میں یہ صراحت نہ لکھوا سکا کہ اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: [فَقَالَ سُهَيْلٌ وَ عَلٰی أَنَّهُ لاَ يَأْتِيْكَ مِنَّا رَجُلٌ وَ إِنْ كَانَ عَلٰی دِيْنِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا] [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ …: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲] ”سہیل نے کہا، یہ شرط بھی کہ ہماری طرف سے جو آدمی بھی آپ کے پاس جائے گا، چاہے وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو، آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔“ اب اس کے بعد کفار یہ کہہ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ مسلمان ہونے والی عورتوں کو واپس کیوں نہیں کرتے۔ جب معاہدہ طے ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو قربانی کرنے اور سر منڈوانے کے ساتھ احرام کھولنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر سہیل کا بیٹا ابو جندل رضی اللہ عنہ مسلمان ہو کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کے مطالبے پر اسے واپس کر دیا، اس کے علاوہ بھی صلح کی اس مدت میں آپ کے پاس مکہ سے جو مرد آیا آپ نے اسے واپس کر دیا خواہ وہ مسلمان ہی تھا۔ اب کئی عورتیں جو ایمان لے آئی تھیں ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں، ان میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی تھیں۔ اس وقت وہ جوان تھیں، ان کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھیں واپس کر دینے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہدایات نازل فرمائیں۔ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۸۰،۴۱۸۱]
➌ { فَامْتَحِنُوْهُنَّ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِهِنَّ …:} ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو کہ وہ ایمان ہی کی وجہ سے ہجرت کر کے آئی ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ اس جانچ پڑتال میں تم اس بات کے مکلف نہیں کہ ان کے دل میں چھپی ہوئی بات معلوم کرو، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، تمھارا کام یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں جو اگلی آیت (۱۲) میں آ رہی ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس مت کرو۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کر کے آنے والے کسی مرد کے امتحان کا حکم نہیں دیا، کیونکہ ان کے امتحان کے لیے ہجرت اور جہاد کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مہاجرین کے صادق الایمان ہونے کی شہادت دی ہے۔ (دیکھیے حشر: ۸) جب کہ عورتوں پر جہاد فرض نہیں جس سے کھرے کھوٹے کی تمیز ہوتی ہے۔ (شنقیطی)
➍ { لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ:} اس میں انھیں واپس نہ کرنے کی علت بیان فرمائی ہے کہ نہ مومن عورتیں کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ ہی کافر مرد مومن عورتوں کے لیے حلال ہیں، اس لیے اگر کوئی عورت مسلمان ہو جائے تو اسے اس کے کافر خاوند سے جدا کر لیا جائے گا۔ پھر اگر وہ اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار کرے اور خاوند مسلمان ہو جائے تو نکاح برقرار رہے گا، خواہ عورت پہلے ہجرت کر کے آئی ہو اور خاوند بعد میں ہجرت کرے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: [رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلٰی أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيْعِ، بَعْدَ سِتِّ سِنِيْنَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا] [ترمذي، النکاح، باب ما جاء في الزوجین المشرکین یسلم أحدھما: ۱۱۴۳، وقال الألباني صحیح] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ سال کے بعد پہلے نکاح ہی میں واپس بھیج دیا اور نیا نکاح نہیں کیا۔“ اور اگر عورت اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار نہ کرے تو اسے اجازت ہے کہ کسی مسلمان کے ساتھ نکاح کر لے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
➎ { وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا:} یعنی ہجرت کر کے آنے والی مسلم عورتوں کے مشرک خاوندوں نے ان کے نکاح پر جو خرچ کیا ہے وہ انھیں واپس کر دو۔ یاد رہے کہ یہ احکام ان مشرکین کی عورتوں کے بارے میں ہیں جن کی مسلمانوں کے ساتھ صلح ہو۔
➏ {وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} یعنی اگر وہ اپنے خاوندوں کے مسلمان ہو کر آنے کا انتظار نہ کریں اور نکاح کرنا چاہیں تو مسلمانوں کو ان سے نکاح کرنے کی اجازت ہے، جب ان شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے جو نکاح کے لیے ضروری ہیں، مثلاً ولی کی اجازت، عدت پوری ہونا، مہر کی ادائیگی وغیرہ۔
➐ {وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ: ”عِصَمٌ“ ”عِصْمَةٌ“} کی جمع ہے، مراد نکاح ہے اور {” الْكَوَافِرِ “ ”كَافِرَةٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”ضَارِبَةٌ“} کی جمع {”ضَوَارِبُ“} ہے، کافر عورتیں۔ یعنی جو مرد مسلمان ہو جائیں اور ان کی بیویاں کفر پر قائم رہیں ان کے لیے انھیں اپنے نکاح میں باقی رکھنا جائز نہیں، بلکہ طلاق دے دینا لازم ہے۔ چنانچہ مسور اور مروان بن حکم سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن کفار قریش سے معاہدہ کیا تو آپ کے پاس کچھ مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ … وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ» [الممتحنۃ: ۱۰] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں…اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو۔“ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنی دو (مشرک) عورتوں کو طلاق دے دی، جن میں سے ایک کے ساتھ معاویہ بن ابو سفیان نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا (جو اس وقت مشرک تھے)۔ [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد…: ۲۷۳۱،۲۷۳۲] ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، انھوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے معاویہ بن ابو سفیان نے نکاح کر لیا اور ام حکم بنت ابو سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھی، انھوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے عبداللہ بن عثمان ثقفی نے نکاح کر لیا۔ [بخاري، الطلاق، باب نکاح من أسلم من المشرکات و عدتہن: ۵۲۸۷]
➑ {وَ سْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْيَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا …:} اس کا عطف {” وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا “} پر ہے۔ ہجرت کر کے آنے والی عورتیں یا تو ان مشرکین میں سے ہوتی تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تھی، ان کے متعلق عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”مشرکین کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دو طرح کا تھا، ایک اہلِ حرب (لڑائی والے) مشرک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لڑتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے تھے اور ایک اہل عہد (معاہدے والے) مشرک۔ اہل حرب مشرکین میں سے کوئی عورت جب ہجرت کر کے آتی تو اسے اس وقت تک نکاح کا پیغام نہیں دیا جاتا تھا جب تک وہ حیض آنے کے بعد پاک نہیں ہوتی تھی۔ جب پاک ہو جاتی تو اس کے لیے نکاح حلال ہو جاتا، پھر اگر اس کا خاوند اس کے نکاح کرنے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتا تو وہ اسے واپس کر دی جاتی اور اگر ان کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو دونوں آزاد ہو جاتے اور انھیں وہ حقوق حاصل ہو جاتے جو دوسرے مہاجرین کو حاصل تھے۔ (پھر معاہدے والوں کے متعلق مجاہد کی حدیث کی طرح ذکر کیا) اور اگر معاہدے والے مشرکین کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو انھیں واپس نہیں کیا جاتا تھا اور ان کی قیمتیں دے دی جاتی تھیں۔“ [بخاري، الطلاق، باب نکاح من أسلم من المشرکات وعدتھن: ۵۲۸۶]
ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں کی دوسری قسم ان مشرکین کی بیویاں تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدۂ صلح تھا۔ اس آیت میں ان کا حکم بیان ہوا ہے کہ انھیں مشرکین کی طرف واپس مت کرو، بلکہ انھوں نے ان کے نکاح پر جو کچھ خرچ کیا ہے وہ انھیں دے دو اور کافر عورتوں کو بھی روک کر مت رکھو، بلکہ انھیں طلاق دے دو اور چونکہ تمھاری آپس میں صلح ہے اس لیے جن مشرک عورتوں کو تم نے چھوڑا ہے ان پر کیا ہوا خرچ تم مشرکین سے مانگ لو اور وہ ان عورتوں پر کیا ہوا خرچ تم سے مانگ لیں جو ہجرت کر کے تمھارے پاس آئی ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1)
(2)
(3)
﴿علي ان لا ياتيك منا رجل فان كان علٰي دينك الا رددته الينا﴾ [بخاري۔ كتاب الشروط۔ باب الشروط فى الجهاد والمصالحة اهل الحرب]
اور یہ کہ اگر ہم میں سے کوئی مرد، خواہ وہ تمہارے دین پر ہی کیوں نہ ہو، تمہارے پاس آئے تو تمہیں اسے ہمارے طرف واپس کرنا ہو گا۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف کہہ دیا کہ اس شرط کے الفاظ کی رو سے عورتیں از خود مستثنیٰ ہیں۔ اس وقت جا کر قریشیوں کی یہ غلط فہمی دور ہوئی۔ ورنہ وہ یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم عورتیں بھی واپس لا سکتے ہیں۔ ان آیات میں ایسی ہی مہاجر عورتوں کے ازدواجی مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔
[22] ایسی عورتوں کے متعلق جو امتحان میں کامیاب ثابت ہوں پہلا حکم یہ ہوا کہ انہیں کسی صورت کافروں کی طرف واپس نہیں کیا جائے گا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس حکم کے بعد وہ اپنے کافر خاوندوں کے لیے حلال نہیں رہیں۔ اس سے دو مسئلے مستنبط کئے گئے ہیں ایک یہ کہ اختلاف دین سے نکاح از خود ختم ہو جاتا ہے۔ کافر اور مومنہ عورت کا یا مومن مرد اور کافر عورت کا رشتہ نکاح از خود ٹوٹ جاتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اختلاف دارین سے بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً ایک زوج دارالاسلام میں ہو اور دوسرا دارالحرب میں تو نکاح ازخود ختم ہو جائے گا کیونکہ ان کے درمیان یہ رشتہ قائم رکھنا محال ہے۔ اس حکم کے بعد تمام مہاجر عورتوں کو نکاح کرنے کی اجازت مل گئی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومیط رضی اللہ عنہا مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ چلی آئیں، ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید ان کے واپس لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا سنا، پس یہ آیت امتحان نازل ہوئی اور مومنہ عورتوں کو واپس لوٹانے سے ممانعت کر دی گئی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کا امتحان کس طرح لیتے تھے؟ فرمایا: اس طرح کہ اللہ کی قسم کھا کر سچ سچ کہے کہ وہ اپنے خاوند کی ناچاقی کی وجہ سے نہیں چلی آئی، صرف آب و ہوا اور زمین کی تبدیلی کرنے کے لیے بطور سیر و سیاحت نہیں آئی، کسی دنیا طلبی کے لیے نہیں آئی بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اسلام کی خاطر ترک وطن کیا ہے اور کوئی غرض نہیں، قسم دے کر ان سوالات کا کرنا اور خوب آزما لینا یہ کام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا۔[تفسیر ابن جریر الطبری:33958:ضعیف]
اس آیت کے اس جملہ سے کہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ باایمان عورت ہے تو پھر اسے کافروں کی طرف مت لوٹاؤ، ثابت ہوتا ہے کہ ایمان پر بھی یقینی طور پر مطلع ہو جانا ممکن امر ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں کافروں پر اور کافر مرد مسلمان عورتوں کے لیے حلال نہیں، اس آیت نے اس رشتہ کو حرام کر دیا ورنہ اس سے پہلے مومنہ عورتوں کا نکاح کافر مردوں سے جائز تھا، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا تھا حالانکہ یہ اس وقت کافر تھے اور بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمہ تھیں، بدر کی لڑائی میں یہ بھی کافروں کے ساتھ تھے اور جو کافر زندہ پکڑے گئے تھے ان میں یہ بھی گرفتار ہو کر آئے تھے زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار ان کے فدیئے میں بھیجا تھا کہ یہ آزاد ہو کر آئیں جسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی رقت طاری ہوئی اور آپ نے مسلمانوں سے فرمایا: ”اگر میری بیٹی کے قیدی کو چھوڑ دینا تم پسند کرتے ہو تو اسے رہا کر دو“، مسلمانوں نے بہ خوشی بغیر فدیہ کے انہیں چھوڑ دینا منظور کیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور فرما دیا کہ آپ کی صاحبزادی کو آپ کے پاس مدینہ میں بھیج دیں انہوں نے اسے منظور کر لیا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیج بھی دیا۔ [سنن ابوداود:2692،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ واقعہ سنہ 2 ہجری کا ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے مدینہ میں ہی اقامت فرمائی اور یونہی بیٹھی رہیں یہاں تک کہ سنہ ۸ ہجری میں ان کے خاوند ابوالعاص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق اسلام دی اور وہ مسلمان ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی اگلے نکاح بغیر نئے مہر کے اپنی صاحبزادی کو ان کے پاس رخصت کر دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:154/3]
اور روایت میں ہے کہ دو سال کے بعد ابوالعاص رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلے نکاح پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو لوٹا دیا تھا یہی صحیح حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:1143،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس لیے کہ مسلمان عورتوں کے مشرک مردوں پر حرام ہونے کے دو سال بعد یہ مسلمان ہو گئے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان کے اسلام کے بعد نئے سرے سے نکاح ہوا اور نیا مہر بندھا۔ [مسند احمد:208/2:ضعیف]
پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مہاجر عورتوں کے کافر خاوندوں کو ان کے خرچ اخراجات جو ہوئے ہیں وہ ادا کر دو جیسے کہ مہر۔ پھر فرمان ہے کہ اب انہیں ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی حرج نہیں، عدت کا گزر جانا ولی کا مقرر کرنا وغیرہ جو امور نکاح میں ضروری ہیں ان شرائط کو پورا کر کے ان مہاجرہ عورتوں سے جو مسلمان نکاح کرنا چاہے کر سکتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں سے صلح کی اور ابھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے نیچے کے حصے میں ہی تھے کہ یہ آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ» [الممتحنہ:10] الخ، نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہہ دیا گیا کہ جو عورت مہاجرہ آئے اس کا باایمان ہونا اور خلوص نیت سے ہجرت کرنا بھی معلوم ہو جائے تو اس کے کافر خاوندوں کو ان کے دیئے ہوئے مہر واپس کر دو، اسی طرح کافروں کو بھی یہ حکم سنا دیا گیا، اس حکم کی وجہ وہ عہد نامہ تھا جو ابھی ابھی مرتب ہوا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی جن دو کافرہ بیویوں کو طلاق دی ان میں سے پہلی کا نام قریبہ تھا یہ ابوامیہ بن مغیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری کا نام ام کلثوم تھا جو عمرو بن حرول خزاعی کی لڑکی تھی سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی والدہ یہ ہی تھیں، اس سے ابوجہم بن حذیفہ بن غانم خزاعی نے نکاح کر لیا یہ بھی مشرک تھا، اسی طرح اس حکم کے ماتحت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کافرہ بیوی ارویٰ بنت ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کو طلاق دے دی، اس سے خالد بن سعید بن عاص نے نکاح کر لیا۔
پھر ارشاد ہوتا ہے تمہاری بیویوں پر جو تم نے خرچ کیا ہے اسے کافروں سے لے لو جبکہ وہ ان میں چلی جائیں اور کافروں کی عورتیں جو مسلمان ہو کر تم میں آ جائیں انہیں تم ان کا کیا ہوا خرچ دے دو۔ صلح کے بارے میں اور عورتوں کے بارے میں اللہ کا فیصلہ بیان ہو چکا جو اس نے اپنی مخلوق میں کر دیا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے باخبر ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لیے کہ «علی الاطلاق حکیم» وہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا یہ مطلب مروی ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو مسلمان عورت کافروں میں جا ملے اور کافر اس کے خاوند کو اس کا کیا ہوا خرچ ادا نہ کریں تو مال غنیمت میں سے آپ اس مسلمان کو بقدر اس کے خرچ کے دے دیں،
پس «فَعَاقَبْتُمْ» کے معنی یہ ہوئے کہ پھر تمہیں قریش یا کسی اور جماعت کفار سے مال غنیمت ہاتھ لگے تو ان مردوں کو جن کی عورتیں کافروں میں چلی گئی ہیں ان کا کیا ہوا خرچ ادا کر دو، یعنی مہر مثل، ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں اور خلاف نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی صورت اگر ناممکن ہو تو وہ سہی ورنہ مال غنیمت میں سے اسے اس کا حق دے دیا جائے دونوں باتوں میں اختیار ہے اور حکم میں وسعت ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس تطبیق کو پسند فرماتے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما كان صلح الحديبية؛ صالَحَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - المشركين على أنَّ مَن جاء منهم إلى المسلمين مسلماً؛ أنَّه يردُّ إلى المشركين، وكان هذا لفظاً عامًّا مطلقاً يدخل في عمومه النساء والرجال، فأمَّا الرجال؛ فإنَّ الله لم ينه رسولَه عن ردِّهم إلى الكفار وفاءً بالشرط وتتميماً للصلح الذي هو من أكبر المصالح، وأمَّا النساءُ؛ فلمَّا كان ردُّهنَّ فيه مفاسد كثيرةٌ؛ أمرَ المؤمنين إذا جاءهم {المؤمناتُ مهاجراتٍ}: وشَكُّوا في صدق إيمانهنَّ أن يمتحنوهنَّ ويختبروهنَّ بما يظهر به من صدقهنَّ من أيمانٍ مغلظةٍ وغيرها؛ فإنَّه يُحْتمل أن يكون إيمانُها غيرَ صادقٍ، بل رغبةً في زوج أو بلدٍ أو غير ذلك من المقاصد الدنيويِّة؛ فإنْ كُنَّ بهذا الوصف؛ تعيَّن ردُّهنَّ وفاءً بالشرط من غير حصول مفسدةٍ؛ وإن امتحنوهنَّ فوجدنَ صادقاتٍ، أو علموا ذلك منهنَّ من غير امتحانٍ؛ فلا يَرْجِعوهنَّ إلى الكفار. {لا هنَّ حلٌّ لهم ولا هم يَحِلُّون لهنَّ}: فهذه مفسدةٌ كبيرةٌ [في ردهنَّ] راعاها الشارع وراعى أيضاً الوفاء بالشرط؛ بأن يُعطوا الكفار أزواجهنَّ ما أنفقوا عليهنَّ من المهر وتوابعه عوضاً عنهنَّ، ولا جناح حينئذٍ على المسلمين أن ينكحوهنَّ، ولو كان لهنَّ أزواجٌ في دار الشرك، ولكن بشرطِ أن يؤتوهنَّ أجورهنَّ من المهر والنفقة، وكما أنَّ المسلمة لا تحلُّ للكافر؛ فكذلك الكافرة لا تحلُّ للمسلم [أن يمسكها] ما دامت على كفرها؛ غير أهل الكتاب، ولهذا قال تعالى: {ولا تُمسِكوا بعِصَم الكَوافِرِ}. وإذا نهي عن الإمساك بعصمتها؛ فالنهي عن ابتداء تزويجها أولى، {واسألوا ما أنفقتم}: أيُّها المؤمنون حين ترجِعُ زوجاتكم مرتداتٍ إلى الكفار؛ فإذا كان الكفار يأخذون من المسلمين نفقة من أسلمت من نسائهم؛ استحقَّ المسلمون أن يأخذوا مقابلة ما ذهب من زوجاتهم إلى الكفار.
وفي هذا دليلٌ على أنَّ خُروجَ البُضْع من الزوج متقوَّمٌ؛ فإذا أفسد مفسدٌ نكاح امرأة رجل برضاع أو غيره؛ كان عليه ضمانُ المهرِ.
وقوله: {ذلكم حكم الله}؛ أي: ذلكم الحكم الذي ذكره الله وبيَّنه لكم حكمُ الله؛ بيَّنه لكم ووضَّحه. {والله عليمٌ حكيمٌ}: فيعلم تعالى ما يصلح لكم من الأحكام، فيشرعه بحسب حكمته ورحمته.