اور وہی ہے جس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو ہم نے اس کے ساتھ ہر چیز کی انگوری نکالی، پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی، جس میں سے ہم تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے ان کے گابھے میں سے جھکے ہوئے خوشے ہیں اور انگوروں اور زیتون اور انار کے باغات ملتے جلتے اور نہ ملنے جلنے والے۔ اس کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کی طرف۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔
En
اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
اور وه ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نبات کو نکالا پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی کہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے یعنی ان کے گپھے میں سے، خوشے ہیں جو نیچے کو لٹکے جاتے ہیں اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار کہ بعض ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور کچھ ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے۔ ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وه پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان میں دﻻئل ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کریمہ میں مذکور نعمت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، انسان اور دیگر مخلوق جس کے سخت محتاج ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضرورت اور حاجت کے وقت پے در پے پانی برسایا، اس پانی کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی جسے انسان اور حیوانات کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلوق اس نباتات کو کھاتی ہے، اس کے عطا کردہ رزق سے انبساط محسوس کرتی ہے، لوگ اس کے احسان پر خوش ہوتے ہیں اور ان سے قحط اور خشک سالی دور ہو جاتی ہے۔ پس دل خوش ہو جاتے ہیں اور چہرے نکھر جاتے ہیں، بندوں کو اللہ رحمان و رحیم کی بے پایاں رحمت نصیب ہوتی ہے جس سے وہ متمتع ہوتے ہیں، اس سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ یہ چیز ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے انھیں یہ نعمتیں عطا کی ہیں اور اس کی عبادت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت میں اپنی کوشش صرف کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے اگنے والے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کیا تو اب (خصوصی طور پر) کھیتیوں اور کھجوروں کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ ان کی منفعت بہت زیادہ ہے اور اکثر لوگوں کی خوراک بھی انھی سے حاصل ہوتی ہے۔
﴿ فَاَخْرَجْنَابِهٖنَبَاتَكُ٘لِّشَیْءٍفَاَخْرَجْنَامِنْهُ ﴾”پھر نکالی ہم نے اس سے سبز کھیتی، ہم نکالتے ہیں اس سے“ یعنی اس سرسبز نباتات میں سے ﴿ حَبًّامُّتَرَاكِبًا ﴾”دانے، ایک پر ایک چڑھا ہوا“ یعنی گندم، جو، مکئی اور چاول جیسی زرعی اجناس میں دانے اپنی بالیوں میں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے وصف میں ”ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے“ کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ ایک بالی میں متعدد دانے ہوتے ہیں، سب ایک ہی مادے سے خوراک حاصل کرتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے، تمام دانے متفرق ہوتے ہیں، ان کی جڑ ایک ہی ہوتی ہے، نیز یہ دانوں کی کثرت، ان کے بڑھنے اور غلے کے عام ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے تاکہ اصل بیج باقی رہے اور دوسرا غلہ کھایا اور ذخیرہ کیا جا سکے۔ ﴿ وَمِنَالنَّخْلِ ﴾”اور کھجور سے“ اللہ تعالیٰ نے نکالا ﴿مِنْطَلْعِهَا ﴾”اس کے گابھے سے“ اور وہ کھجور کا خوشہ نکلنے سے قبل اس پر چڑھا ہوا غلاف ہے۔ پس اس غلاف میں سے کھجور کا خوشہ نکلتا ہے ﴿ قِنْوَانٌدَانِیَةٌ ﴾”پھل کے گچھے، جھکے ہوئے“ یعنی قریب قریب لگے ہوئے خوشے جن کا حصول بہت آسان ہوتا ہے جو کوئی خوشوں کو توڑنا چاہے وہ ان کے بہت قریب ہوتا ہے۔ انھیں کھجور سے حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا، خواہ کھجور کا درخت کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو کیونکہ کھجور کے تنے سے کٹی ہوئی شاخوں کی جگہ سیڑھیاں سی بن جاتی ہیں ان کی مدد سے کھجور پر چڑھنا آسان ہو جاتا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍمِّنْاَعْنَابٍوَّالزَّیْتُوْنَوَالرُّمَّانَ ﴾”اور (اس پانی سے) انگور، زیتون اور انار کے باغات اگائے۔“چونکہ یہ درخت کثیر الفوائد اور عظیم وقعت کے حامل ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
﴿ مُشْتَبِهًاوَّغَیْرَمُتَشَابِهٍ ﴾”آپس میں ملتے جلتے بھی اور جدا جدا بھی“ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے مراد انار اور زیتون ہو کیونکہ ان کے درخت اور پتے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان کے پھل غیر مشابہ (جدا جدا) ہوتے ہیں اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام درخت اور میوے وغیرہ ہوں جن میں سے بعض ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور بعض اوصاف میں ایک دوسرے سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے (بلکہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں)۔
ان تمام درختوں سے بندے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے پھل اور غذا حاصل کرتے ہیں اور عبرت پکڑتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ﴿ اُ٘نْ٘ظُ٘رُوْۤا ﴾”دیکھو“ یعنی غور و فکر اور عبرت کی نظر سے دیکھو ﴿ اِلٰىثَمَرِهٖۤ ﴾ تمام درختوں کے پھل کی طرف عام طور پر اور کھجور کے پھل کی طرف خاص طور پر ﴿ اِذَاۤاَثْ٘مَرَ ﴾”جب وہ پھل لائے“﴿ وَیَنْعِهٖ ﴾”اور اس کے پکنے پر“ یعنی اس کے شگوفے نکلنے، پھل پکنے اور اس کے پک کر سرخ ہونے کی طرف دیکھو کیونکہ اس میں عبرت اور نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے جود و احسان کی وسعت، اس کے کامل اقتدار اور بندوں پر اس کی بے پایاں عنایات پر استدلال کیا جاتا ہے۔
مگر ہر ایک تفکر و تدبر کے ذریعے سے عبرت حاصل نہیں کرتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی غور و فکر کرے وہ معنی مقصود کو پا لے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے کو مومنین کے ساتھ خاص کیا ہے، چنانچہ فرمایا ﴿اِنَّفِیْذٰلِكُمْلَاٰیٰتٍلِّقَوْمٍیُّؤْمِنُوْنَ ﴾”اس میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں “ کیونکہ مومنین کا ایمان ان کو اپنے ایمان کے تقاضوں اور لوازم پر عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور ان لوازم میں آیات الٰہی میں غور و فکر، ان سے نتائج کا استخراج، ان کا معنی مراد اور یہ آیات عقلاً،شرعاً اور فطرتاً جس چیز پر دلالت کرتی ہیں، سب شامل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من أعظم مننه العظيمة التي يضطرُّ إليها الخلق من الآدميين، وغيرهم، وهو أنه أنزل من السماء ماء متتابعاً وقت حاجة الناس إليه، فأنبت الله به كل شيء مما يأكل الناس والأنعام، فرتع الخلق بفضل الله وانبسطوا برزقِهِ وفرحوا بإحسانه وزال عنهم الجدب واليأس والقحط، ففرحتِ القلوبُ وأسفرتِ الوجوه وحصل للعباد من رحمة الرحمن الرحيم ما به يتمتَّعون وبه يرتعون، مما يوجِبُ لهم أن يبذُلوا جهدهم في شكر من أسدى النعم وعبادته والإنابة إليه والمحبة له.
ولما ذكر عموم ما ينبت بالماء من أنواع الأشجار والنبات؛ ذَكَرَ الزرع والنخل لكثرة نفعهما وكونهما قوتاً لأكثر الناس، فقال: {فأخرجنا منه خَضِراً نخرِجُ منه}؛ أي: من ذلك النبات الخضر {حبًّا متراكباً}: بعضُه فوق بعض من بُرٍّ وشعير وذرة وأرز وغير ذلك من أصناف الزروع، وفي وصفه بأنه متراكبٌ إشارة إلى أنَّ حبوبه متعددة، وجميعها تستمدُّ من مادةٍ واحدةٍ، وهي لا تختلط، بل هي متفرِّقة الحبوب مجتمعة الأصول، وإشارة أيضاً إلى كثرتها وشمول ريعها وغلتها؛ ليبقى أصل البذر، ويبقى بقية كثيرةٌ للأكل والادِّخار. {ومن النخل}: أخرج اللهُ {من طَلْعِها}: وهو الكُفُرَّى والوعاء قبل ظهور القنو منه، فيخرج من ذلك الوعاء {قِنْوانٌ دانيةٌ}؛ أي: قريبة سهلة التناول متدلية على من أرادها؛ بحيث لا يعسُرُ التناول من النخل، وإن طالت؛ فإنه يوجد فيها كَرَبٌ ومراقي يَسْهُلُ صعودها. {و}: أخرج تعالى بالماء {جناتٍ من أعناب والزيتون والرمان}: فهذه من الأشجار الكثيرة النفع العظيمة الوقع؛ فلذلك خصَّصها الله بالذِّكر بعد أن عمَّ جميع الأشجار والنوابت. وقوله: {مشتبهاً وغير متشابهٍ}: يحتملُ أن يرجعَ إلى الرُّمَّانِ والزيتون؛ أي: مشتبهاً في شجره وورقه غير متشابه في ثمره، ويحتمل أن يرجع ذلك إلى سائر الأشجار والفواكه، وأن بعضها مشتبه؛ يشبه بعضه بعضاً، ويتقارب في بعض أوصافه، وبعضها لا مشابهة بينه وبين غيره، والكل ينتفع به العباد ويتفكَّهون، ويقتاتون ويعتبرون، ولهذا أمر تعالى بالاعتبار به، فقال: {انظروا}: نظر فكرٍ واعتبار {إلى ثمره}؛ أي: الأشجار كلها، خصوصاً النخل، {إذا أثْمَرَ وينعِهِ}؛ أي: انظروا إليه وقت إطلاعه ووقت نضجه وإيناعه؛ فإن في ذلك عبراً وآياتٍ يُستدلُّ بها على رحمة الله وسَعَة إحسانِهِ وجودِهِ وكمال اقتداره وعنايته بعباده، ولكن ليس كل أحدٍ يَعْتَبِرُ ويتفكَّر، وليس كلُّ من تفكَّر؛ أدرك المعنى المقصود، ولهذا قَيَّدَ تعالى الانتفاع بالآيات بالمؤمنين، فقال: {إنَّ في ذلكم لآياتٍ لقوم يؤمنونَ}: فإن المؤمنين يحمِلُهم ما معهم من الإيمان على العمل بمقتضياته ولوازمه التي منها التفكر في آيات الله والاستنتاج منها ما يراد منها وما تدلُّ عليه عقلاً وفطرةً وشرعاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔