تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 100

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ وَ خَلَقَہُمۡ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪
اور انھوں نے جنوں کو اللہ کے شریک بنا دیا، حالانکہ اس نے انھیں پیدا کیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں کچھ جانے بغیر تراش لیں، وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ En
اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے
En
اور لوگوں نے شیاطین کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے رکھا ہے حاﻻنکہ ان لوگوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور ان لوگوں نے اللہ کے حق میں بیٹے اور بیٹیاں بلا سند تراش رکھی ہیں اور وه پاک اور برتر ہے ان باتوں سے جو یہ کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے۔ اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو علم کے بغیر کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگاتا ہے اور اس پر ایسے بدترین نقص کا بہتان باندھتا ہے جس سے اس کی تنزیہ واجب ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کی افترا پردازیوں سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ سُبْحٰؔنَهٗ وَتَ٘عٰ٘لٰ٘ى عَمَّا یَصِفُوْنَ وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص، آفت اور عیب سے منزہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه مع إحسانه لعباده وتعرفه إليهم بآياته البينات وحججه الواضحات؛ أن المشركين به من قريش وغيرهم جعلوا له شركاء يدعونهم ويعبُدونهم من الجنِّ والملائكة، الذين هم خَلْقٌ مِن خَلْق الله، ليس فيهم من خصائص الربوبيَّة والألوهيَّة شيء، فجعلوها شركاء لمن له الخلقُ والأمرُ، وهو المنعم بسائر أصناف النعم، الدافع لجميع النقم، وكذلك خَرَقَ المشركون؛ أي: ائتفكوا وافتروا من تلقاء أنفسهم لله بنينَ وبناتٍ بغير علم منهم، ومن أظلم ممن قال على الله بلا علم، وافترى عليه أشنعَ النَّقص الذي يجب تنزيهُ الله عنه، ولهذا نزَّه نفسه عما افتراه عليه المشركون، فقال: {سبحانَه وتعالى عمَّا يَصِفونَ}؛ فإنه تعالى الموصوف بكل كمالٍ، المنزَّه عن كل نقصٍ وآفةٍ وعَيْبٍ.