ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 99

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیۡءٍ فَاَخۡرَجۡنَا مِنۡہُ خَضِرًا نُّخۡرِجُ مِنۡہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ۚ وَ مِنَ النَّخۡلِ مِنۡ طَلۡعِہَا قِنۡوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُشۡتَبِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشَابِہٍ ؕ اُنۡظُرُوۡۤا اِلٰی ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَ یَنۡعِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکُمۡ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۹۹﴾
اور وہی ہے جس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو ہم نے اس کے ساتھ ہر چیز کی انگوری نکالی، پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی، جس میں سے ہم تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے ان کے گابھے میں سے جھکے ہوئے خوشے ہیں اور انگوروں اور زیتون اور انار کے باغات ملتے جلتے اور نہ ملنے جلنے والے۔ اس کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کی طرف۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔ En
اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
En
اور وه ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نبات کو نکالا پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی کہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے یعنی ان کے گپھے میں سے، خوشے ہیں جو نیچے کو لٹکے جاتے ہیں اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار کہ بعض ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور کچھ ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے۔ ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وه پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان میں دﻻئل ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 99) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً …: قِنْوَانٌ } یہ { قِنْوٌ } کی جمع ہے بمعنی خوشے۔ { دَانِيَةٌ } یہ {دَنَا يَدْنُوْ } سے اسم فاعل ہے، یعنی قریب، مراد نیچے جھکے ہوئے۔ { مُشْتَبِهًا وَّ غَيْرَ مُتَشَابِهٍ } یعنی پتے ملتے ہیں، مگر پھل مختلف ہیں، یا ایک ہی درخت، مثلاً آم کو لے لیں کہ ان کے پودے ملتے جلتے ہیں، مگر ہر پودے کے پھل کی لذت الگ ہے۔
➋ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتوں میں سے ایک عظیم قدرت اور نعمت کا ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے سے نرم و نازک انگوری نکالی، جس سے تہ بہ تہ دانوں سے بھرے ہوئے خوشے نکالے اور کھجور کو دیکھو کہ پہلے ایک سُوا سا نکلا، پھر وہ درخت بن گیا، پھر اس سے کچا پھل بنایا، پھر اس کا رنگ بدلتا جاتا ہے اور وہ بڑا بھی ہو جاتا ہے۔ ان کے پھل دینے کو اور ان کے پکنے کو دیکھو، جب کچا ہوتا ہے تو اس کی کچھ حیثیت نہیں اور پک کر کس قدر لذیذ ہو جاتا ہے۔ یہی حال انگور، زیتون اور انار کا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

99۔ 1 يہاں سے اس کی ایک اور عجیب صنعت (کاریگری) کا بیان ہو رہا ہے یعنی بارش کا پانی جس سے وہ ہر قسم کے درخت پیدا فرماتا ہے۔ 99۔ 1 اس سے مراد سبز شاخیں اور کونپلیں ہیں جو زمین میں دبے ہوئے دانے سے اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر ظاہر فرما رہا ہے، پھر وہ پودا یا درخت نشو نما پاتا ہے۔ 99۔ 2 یعنی ان سبز شاخوں سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں۔ جس طرح گندم اور چاول کی بالیاں ہوتی ہیں۔ مراد یہ سب غلہ جات مثلاً جو، جوار، باجرہ، مکئی، گندم اور چاول وغیرہ۔ 99۔ 3 قنوان قنو کی جمع ہے جیسے صٓنو اور صنوان ہے مراد خوشے ہیں۔ طَلْع، ُ وہ گابھا یا گچھا ہے جو کھجور کی ابتدائی شکل ہے، یہی بڑھ کر خوشہ بنتا ہے اور پھر رطب کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ دنِیَۃُ، سے مراد وہ خوشے ہیں جو قریب ہوں۔ اور کچھ خوشے دور ہوتے ہیں جن تک ہاتھ نہیں پہنچتے بطور امتنان دانیۃ کا ذکر فرما دیا ہے مطلب ہے منھا دانیہ ومنھا بعیدۃ (کچھ خوشے قریب ہیں اور کچھ دور) بَعِیدۃُ، مخدوف ہے۔ (فتح الْقدیر)۔ 99۔ 4 جنات زیتون اور رمان یہ سب منصوب ہیں جن کا عطف نبات پر ہے یعنی فاخرجنا بہ جنات یعنی بارش کے پانی سے ہم نے انگوروں کے باغات اور زیتون اور انار پیدا کیے۔ 99۔ 4 یعنی بعض اوصاف میں یہ باہم ملتے جلتے ہیں اور بعض میں ملتے جلتے نہیں ہیں یا ان کے پتے ایک دوسرے سے ملتے ہیں پھل نہیں ملتے یا شکل میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن مزے اور ذائقے میں باہم مختلف ہیں۔ 99۔ 4 یعنی مذکورہ تمام چیزوں میں خالق کائنات کے کمال قدرت اور اس کی حکمت و رحمت کے دلائل ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

99۔ اور وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا [102] پھر اس سے ہم نے ہر طرح کی نباتات اگائی اور ہرے بھرے کھیت پیدا کئے جن سے ہم تہ بہ تہ دانوں والے خوشے نکالتے ہیں۔ اور کھجوروں کے شگوفوں سے گچھے پیدا کرتے ہیں جو (بوجھ کی وجہ سے) جھکے ہوتے ہیں۔ نیز انگور، زیتون اور انار کے باغات پیدا کیے جن کے پھل ملتے جلتے بھی ہوتے ہیں اور الگ الگ بھی۔ ان کے پھل لانے اور پھلوں کے پکنے پر ذرا غور تو کرو۔ ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں
[102] یعنی زمین بھی ایک اور اس پر برسنے والا پانی بھی ایک جیسا، لیکن زمین سے پیدا ہونے والی نباتات اور پھلوں کے درختوں میں سے ہر ایک کے پھل پر غور کرو کھجور کے پھل پر اور اس کی ترکیب کو دیکھو، پھر انگور کو دیکھو جس میں بیج تک بھی نہیں ہوتا، انار کو دیکھو کہ اس کے دانے آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔ پھر یہ دیکھو کہ زمین ایک، درخت کی جنس ایک، پانی ایک لیکن ایک کا پھل ناقص ہے اور دوسرے کا عمدہ۔ پھر کسی ایک درخت کے پھل پر، پھل لگنے سے لے کر اس کے پکنے تک کے مراحل پر غور کرو۔ ایک ایک بات سے تمہیں اللہ کی قدرت کے نشانات ملتے جائیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی غور کرنے والا تو ہو؟ اور اگر کوئی انہیں عام معلومات سمجھ کر ان میں غور و فکر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرے تو اسے اللہ کی یہ نشانیاں کہاں نظر آسکتی ہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قدرت کی نشانیاں ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ تم سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تن واحد یعنی آدم سے پیدا کیا ہے ‘ -جیسے اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ» ۱؎ [4-النساء:1]‏‏‏‏ ’ لوگو اپنے اس رب سے ڈور جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کی اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا پھر ان دونوں سے مرد و عورت خوب پھیلا دیئے ‘۔
«مُسْتَقَرٌّ» سے مراد ماں کا پیٹ اور «مُسْتَوْدَعٌ» سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو مر گیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سمجھداروں کے سامنے نشان ہائے قدرت بہت کچھ آچکے، اللہ کی بہت سی باتیں بیان ہو چکیں جو کافی وافی ہیں -وہی اللہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا نہایت صحیح اندازے سے بڑا با برکت پانی جو بندوں کی زندگانی کا باعث بنا اور سارے جہاں پر اللہ کی رحمت بن کر برسا، اسی سے تمام تر تروتازہ چیزیں اگیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ» [21-الأنبياء:30]‏‏‏‏ ’ پانی سے ہم نے ہر چیز کی زندگانی قائم کر دی۔ پھر اس سے سبزہ یعنی کھیتی اور درخت اگتے ہیں جس میں سے دانے اور پھل نکلتے ہیں، دانے بہت سارے ہوتے ہیں گتھے ہوئے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے اور کھجور کے خوشے جو زمین کی طرف جھکے پڑتے ہیں۔ بعض درخت خرما چھوٹے ہوتے ہیں اور خوشے چمٹے ہوئے ہوتے ہیں ‘۔
«قِنْوَانٌ» کو قبیلہ تمیم «قِنْيَانٌ» کہتا ہے اس کا مفرد «قِنْوٍ» ہے، جیسے «صِنْوَانٌ» «صِنْوٍ» ‏‏‏‏ کی جمع ہے اور باغات انگوروں کے۔ پس عرب کے نزدیک یہی دنوں میوے سب میوں سے اعلیٰ ہیں کھجور اور انگور اور فی الحقیقت ہیں بھی یہ اسی درجے کے۔
قرآن کی دوسری آیت «وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [16۔النحل:67]‏‏‏‏ میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر فرما کر اپنا احسان بیان فرمایا ہے اس میں جو شراب بنانے کا ذکر ہے اس پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حرمت شراب کے نازل ہونے سے پہلے کی یہ آیت ہے۔
اور آیت میں بھی باغ کے ذکر میں فرمایا کہ «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ» [36-يس:34]‏‏‏‏ ’ ہم نے اس میں کھجور و انگور کے درخت پیدا کئے تھے ‘۔ زیتون بھی ہیں انار بھی ہیں آپس میں ملتے جلتے پھل الگ الگ، شکل صورت مزہ حلاوت فوائد و غیرہ ہر ایک کے جدا گانہ، ان درختوں میں پھلوں کا آنا اور ان کا پکنا ملاحظہ کر اور اللہ کی ان قدرتوں کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرو کہ لکڑی میں میوہ نکالتا ہے۔ عدم وجود میں لاتا ہے۔ سوکھے کو گیلا کرتا ہے۔ مٹھاس لذت خوشبو سب کچھ پیدا کرتا ہے رنگ روپ شکل صورت دیتا ہے فوائد رکھتا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ «وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» ۱؎ [13-الرعد:4]‏‏‏‏ ’ پانی ایک زمین ایک کھیتیاں باغات ملے جلے لیکن ہم جسے چاہیں جب چاہیں بنا دیں کھٹاس مٹھاس کمی زیادتی سب ہمارے قبضہ میں ہے یہ سب خالق کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے ایماندار اپنا عقیدہ مضبوط کرتے ہیں ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں مذکور نعمت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، انسان اور دیگر مخلوق جس کے سخت محتاج ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضرورت اور حاجت کے وقت پے در پے پانی برسایا، اس پانی کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی جسے انسان اور حیوانات کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلوق اس نباتات کو کھاتی ہے، اس کے عطا کردہ رزق سے انبساط محسوس کرتی ہے، لوگ اس کے احسان پر خوش ہوتے ہیں اور ان سے قحط اور خشک سالی دور ہو جاتی ہے۔ پس دل خوش ہو جاتے ہیں اور چہرے نکھر جاتے ہیں، بندوں کو اللہ رحمان و رحیم کی بے پایاں رحمت نصیب ہوتی ہے جس سے وہ متمتع ہوتے ہیں، اس سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ یہ چیز ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے انھیں یہ نعمتیں عطا کی ہیں اور اس کی عبادت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت میں اپنی کوشش صرف کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے اگنے والے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کیا تو اب (خصوصی طور پر) کھیتیوں اور کھجوروں کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ ان کی منفعت بہت زیادہ ہے اور اکثر لوگوں کی خوراک بھی انھی سے حاصل ہوتی ہے۔
﴿ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُ٘لِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ پھر نکالی ہم نے اس سے سبز کھیتی، ہم نکالتے ہیں اس سے یعنی اس سرسبز نباتات میں سے ﴿ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا دانے، ایک پر ایک چڑھا ہوا یعنی گندم، جو، مکئی اور چاول جیسی زرعی اجناس میں دانے اپنی بالیوں میں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے وصف میں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ ایک بالی میں متعدد دانے ہوتے ہیں، سب ایک ہی مادے سے خوراک حاصل کرتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے، تمام دانے متفرق ہوتے ہیں، ان کی جڑ ایک ہی ہوتی ہے، نیز یہ دانوں کی کثرت، ان کے بڑھنے اور غلے کے عام ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے تاکہ اصل بیج باقی رہے اور دوسرا غلہ کھایا اور ذخیرہ کیا جا سکے۔ ﴿ وَمِنَ النَّخْلِ اور کھجور سے اللہ تعالیٰ نے نکالا ﴿مِنْ طَلْعِهَا اس کے گابھے سے اور وہ کھجور کا خوشہ نکلنے سے قبل اس پر چڑھا ہوا غلاف ہے۔ پس اس غلاف میں سے کھجور کا خوشہ نکلتا ہے ﴿ قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ پھل کے گچھے، جھکے ہوئے یعنی قریب قریب لگے ہوئے خوشے جن کا حصول بہت آسان ہوتا ہے جو کوئی خوشوں کو توڑنا چاہے وہ ان کے بہت قریب ہوتا ہے۔ انھیں کھجور سے حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا، خواہ کھجور کا درخت کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو کیونکہ کھجور کے تنے سے کٹی ہوئی شاخوں کی جگہ سیڑھیاں سی بن جاتی ہیں ان کی مدد سے کھجور پر چڑھنا آسان ہو جاتا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ اور (اس پانی سے) انگور، زیتون اور انار کے باغات اگائے۔چونکہ یہ درخت کثیر الفوائد اور عظیم وقعت کے حامل ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
﴿ مُشْتَبِهًا وَّغَیْرَ مُتَشَابِهٍ آپس میں ملتے جلتے بھی اور جدا جدا بھی اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے مراد انار اور زیتون ہو کیونکہ ان کے درخت اور پتے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان کے پھل غیر مشابہ (جدا جدا) ہوتے ہیں اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام درخت اور میوے وغیرہ ہوں جن میں سے بعض ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور بعض اوصاف میں ایک دوسرے سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے (بلکہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں)۔
ان تمام درختوں سے بندے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے پھل اور غذا حاصل کرتے ہیں اور عبرت پکڑتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ﴿ اُ٘نْ٘ظُ٘رُوْۤا دیکھو یعنی غور و فکر اور عبرت کی نظر سے دیکھو ﴿ اِلٰى ثَمَرِهٖۤ تمام درختوں کے پھل کی طرف عام طور پر اور کھجور کے پھل کی طرف خاص طور پر ﴿ اِذَاۤ اَثْ٘مَرَ جب وہ پھل لائے ﴿ وَیَنْعِهٖ اور اس کے پکنے پر یعنی اس کے شگوفے نکلنے، پھل پکنے اور اس کے پک کر سرخ ہونے کی طرف دیکھو کیونکہ اس میں عبرت اور نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے جود و احسان کی وسعت، اس کے کامل اقتدار اور بندوں پر اس کی بے پایاں عنایات پر استدلال کیا جاتا ہے۔
مگر ہر ایک تفکر و تدبر کے ذریعے سے عبرت حاصل نہیں کرتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی غور و فکر کرے وہ معنی مقصود کو پا لے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے کو مومنین کے ساتھ خاص کیا ہے، چنانچہ فرمایا ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ اس میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں کیونکہ مومنین کا ایمان ان کو اپنے ایمان کے تقاضوں اور لوازم پر عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور ان لوازم میں آیات الٰہی میں غور و فکر، ان سے نتائج کا استخراج، ان کا معنی مراد اور یہ آیات عقلاً، شرعاً اور فطرتاً جس چیز پر دلالت کرتی ہیں، سب شامل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من أعظم مننه العظيمة التي يضطرُّ إليها الخلق من الآدميين، وغيرهم، وهو أنه أنزل من السماء ماء متتابعاً وقت حاجة الناس إليه، فأنبت الله به كل شيء مما يأكل الناس والأنعام، فرتع الخلق بفضل الله وانبسطوا برزقِهِ وفرحوا بإحسانه وزال عنهم الجدب واليأس والقحط، ففرحتِ القلوبُ وأسفرتِ الوجوه وحصل للعباد من رحمة الرحمن الرحيم ما به يتمتَّعون وبه يرتعون، مما يوجِبُ لهم أن يبذُلوا جهدهم في شكر من أسدى النعم وعبادته والإنابة إليه والمحبة له.

ولما ذكر عموم ما ينبت بالماء من أنواع الأشجار والنبات؛ ذَكَرَ الزرع والنخل لكثرة نفعهما وكونهما قوتاً لأكثر الناس، فقال: {فأخرجنا منه خَضِراً نخرِجُ منه}؛ أي: من ذلك النبات الخضر {حبًّا متراكباً}: بعضُه فوق بعض من بُرٍّ وشعير وذرة وأرز وغير ذلك من أصناف الزروع، وفي وصفه بأنه متراكبٌ إشارة إلى أنَّ حبوبه متعددة، وجميعها تستمدُّ من مادةٍ واحدةٍ، وهي لا تختلط، بل هي متفرِّقة الحبوب مجتمعة الأصول، وإشارة أيضاً إلى كثرتها وشمول ريعها وغلتها؛ ليبقى أصل البذر، ويبقى بقية كثيرةٌ للأكل والادِّخار. {ومن النخل}: أخرج اللهُ {من طَلْعِها}: وهو الكُفُرَّى والوعاء قبل ظهور القنو منه، فيخرج من ذلك الوعاء {قِنْوانٌ دانيةٌ}؛ أي: قريبة سهلة التناول متدلية على من أرادها؛ بحيث لا يعسُرُ التناول من النخل، وإن طالت؛ فإنه يوجد فيها كَرَبٌ ومراقي يَسْهُلُ صعودها. {و}: أخرج تعالى بالماء {جناتٍ من أعناب والزيتون والرمان}: فهذه من الأشجار الكثيرة النفع العظيمة الوقع؛ فلذلك خصَّصها الله بالذِّكر بعد أن عمَّ جميع الأشجار والنوابت. وقوله: {مشتبهاً وغير متشابهٍ}: يحتملُ أن يرجعَ إلى الرُّمَّانِ والزيتون؛ أي: مشتبهاً في شجره وورقه غير متشابه في ثمره، ويحتمل أن يرجع ذلك إلى سائر الأشجار والفواكه، وأن بعضها مشتبه؛ يشبه بعضه بعضاً، ويتقارب في بعض أوصافه، وبعضها لا مشابهة بينه وبين غيره، والكل ينتفع به العباد ويتفكَّهون، ويقتاتون ويعتبرون، ولهذا أمر تعالى بالاعتبار به، فقال: {انظروا}: نظر فكرٍ واعتبار {إلى ثمره}؛ أي: الأشجار كلها، خصوصاً النخل، {إذا أثْمَرَ وينعِهِ}؛ أي: انظروا إليه وقت إطلاعه ووقت نضجه وإيناعه؛ فإن في ذلك عبراً وآياتٍ يُستدلُّ بها على رحمة الله وسَعَة إحسانِهِ وجودِهِ وكمال اقتداره وعنايته بعباده، ولكن ليس كل أحدٍ يَعْتَبِرُ ويتفكَّر، وليس كلُّ من تفكَّر؛ أدرك المعنى المقصود، ولهذا قَيَّدَ تعالى الانتفاع بالآيات بالمؤمنين، فقال: {إنَّ في ذلكم لآياتٍ لقوم يؤمنونَ}: فإن المؤمنين يحمِلُهم ما معهم من الإيمان على العمل بمقتضياته ولوازمه التي منها التفكر في آيات الله والاستنتاج منها ما يراد منها وما تدلُّ عليه عقلاً وفطرةً وشرعاً.