تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتوں میں سے ایک عظیم قدرت اور نعمت کا ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے سے نرم و نازک انگوری نکالی، جس سے تہ بہ تہ دانوں سے بھرے ہوئے خوشے نکالے اور کھجور کو دیکھو کہ پہلے ایک سُوا سا نکلا، پھر وہ درخت بن گیا، پھر اس سے کچا پھل بنایا، پھر اس کا رنگ بدلتا جاتا ہے اور وہ بڑا بھی ہو جاتا ہے۔ ان کے پھل دینے کو اور ان کے پکنے کو دیکھو، جب کچا ہوتا ہے تو اس کی کچھ حیثیت نہیں اور پک کر کس قدر لذیذ ہو جاتا ہے۔ یہی حال انگور، زیتون اور انار کا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«مُسْتَقَرٌّ» سے مراد ماں کا پیٹ اور «مُسْتَوْدَعٌ» سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو مر گیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ» [21-الأنبياء:30] ’ پانی سے ہم نے ہر چیز کی زندگانی قائم کر دی۔ پھر اس سے سبزہ یعنی کھیتی اور درخت اگتے ہیں جس میں سے دانے اور پھل نکلتے ہیں، دانے بہت سارے ہوتے ہیں گتھے ہوئے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے اور کھجور کے خوشے جو زمین کی طرف جھکے پڑتے ہیں۔ بعض درخت خرما چھوٹے ہوتے ہیں اور خوشے چمٹے ہوئے ہوتے ہیں ‘۔
«قِنْوَانٌ» کو قبیلہ تمیم «قِنْيَانٌ» کہتا ہے اس کا مفرد «قِنْوٍ» ہے، جیسے «صِنْوَانٌ» «صِنْوٍ» کی جمع ہے اور باغات انگوروں کے۔ پس عرب کے نزدیک یہی دنوں میوے سب میوں سے اعلیٰ ہیں کھجور اور انگور اور فی الحقیقت ہیں بھی یہ اسی درجے کے۔
قرآن کی دوسری آیت «وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [16۔النحل:67] میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر فرما کر اپنا احسان بیان فرمایا ہے اس میں جو شراب بنانے کا ذکر ہے اس پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حرمت شراب کے نازل ہونے سے پہلے کی یہ آیت ہے۔
اور آیت میں بھی باغ کے ذکر میں فرمایا کہ «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ» [36-يس:34] ’ ہم نے اس میں کھجور و انگور کے درخت پیدا کئے تھے ‘۔ زیتون بھی ہیں انار بھی ہیں آپس میں ملتے جلتے پھل الگ الگ، شکل صورت مزہ حلاوت فوائد و غیرہ ہر ایک کے جدا گانہ، ان درختوں میں پھلوں کا آنا اور ان کا پکنا ملاحظہ کر اور اللہ کی ان قدرتوں کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرو کہ لکڑی میں میوہ نکالتا ہے۔ عدم وجود میں لاتا ہے۔ سوکھے کو گیلا کرتا ہے۔ مٹھاس لذت خوشبو سب کچھ پیدا کرتا ہے رنگ روپ شکل صورت دیتا ہے فوائد رکھتا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ «وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» ۱؎ [13-الرعد:4] ’ پانی ایک زمین ایک کھیتیاں باغات ملے جلے لیکن ہم جسے چاہیں جب چاہیں بنا دیں کھٹاس مٹھاس کمی زیادتی سب ہمارے قبضہ میں ہے یہ سب خالق کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے ایماندار اپنا عقیدہ مضبوط کرتے ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من أعظم مننه العظيمة التي يضطرُّ إليها الخلق من الآدميين، وغيرهم، وهو أنه أنزل من السماء ماء متتابعاً وقت حاجة الناس إليه، فأنبت الله به كل شيء مما يأكل الناس والأنعام، فرتع الخلق بفضل الله وانبسطوا برزقِهِ وفرحوا بإحسانه وزال عنهم الجدب واليأس والقحط، ففرحتِ القلوبُ وأسفرتِ الوجوه وحصل للعباد من رحمة الرحمن الرحيم ما به يتمتَّعون وبه يرتعون، مما يوجِبُ لهم أن يبذُلوا جهدهم في شكر من أسدى النعم وعبادته والإنابة إليه والمحبة له.
ولما ذكر عموم ما ينبت بالماء من أنواع الأشجار والنبات؛ ذَكَرَ الزرع والنخل لكثرة نفعهما وكونهما قوتاً لأكثر الناس، فقال: {فأخرجنا منه خَضِراً نخرِجُ منه}؛ أي: من ذلك النبات الخضر {حبًّا متراكباً}: بعضُه فوق بعض من بُرٍّ وشعير وذرة وأرز وغير ذلك من أصناف الزروع، وفي وصفه بأنه متراكبٌ إشارة إلى أنَّ حبوبه متعددة، وجميعها تستمدُّ من مادةٍ واحدةٍ، وهي لا تختلط، بل هي متفرِّقة الحبوب مجتمعة الأصول، وإشارة أيضاً إلى كثرتها وشمول ريعها وغلتها؛ ليبقى أصل البذر، ويبقى بقية كثيرةٌ للأكل والادِّخار. {ومن النخل}: أخرج اللهُ {من طَلْعِها}: وهو الكُفُرَّى والوعاء قبل ظهور القنو منه، فيخرج من ذلك الوعاء {قِنْوانٌ دانيةٌ}؛ أي: قريبة سهلة التناول متدلية على من أرادها؛ بحيث لا يعسُرُ التناول من النخل، وإن طالت؛ فإنه يوجد فيها كَرَبٌ ومراقي يَسْهُلُ صعودها. {و}: أخرج تعالى بالماء {جناتٍ من أعناب والزيتون والرمان}: فهذه من الأشجار الكثيرة النفع العظيمة الوقع؛ فلذلك خصَّصها الله بالذِّكر بعد أن عمَّ جميع الأشجار والنوابت. وقوله: {مشتبهاً وغير متشابهٍ}: يحتملُ أن يرجعَ إلى الرُّمَّانِ والزيتون؛ أي: مشتبهاً في شجره وورقه غير متشابه في ثمره، ويحتمل أن يرجع ذلك إلى سائر الأشجار والفواكه، وأن بعضها مشتبه؛ يشبه بعضه بعضاً، ويتقارب في بعض أوصافه، وبعضها لا مشابهة بينه وبين غيره، والكل ينتفع به العباد ويتفكَّهون، ويقتاتون ويعتبرون، ولهذا أمر تعالى بالاعتبار به، فقال: {انظروا}: نظر فكرٍ واعتبار {إلى ثمره}؛ أي: الأشجار كلها، خصوصاً النخل، {إذا أثْمَرَ وينعِهِ}؛ أي: انظروا إليه وقت إطلاعه ووقت نضجه وإيناعه؛ فإن في ذلك عبراً وآياتٍ يُستدلُّ بها على رحمة الله وسَعَة إحسانِهِ وجودِهِ وكمال اقتداره وعنايته بعباده، ولكن ليس كل أحدٍ يَعْتَبِرُ ويتفكَّر، وليس كلُّ من تفكَّر؛ أدرك المعنى المقصود، ولهذا قَيَّدَ تعالى الانتفاع بالآيات بالمؤمنين، فقال: {إنَّ في ذلكم لآياتٍ لقوم يؤمنونَ}: فإن المؤمنين يحمِلُهم ما معهم من الإيمان على العمل بمقتضياته ولوازمه التي منها التفكر في آيات الله والاستنتاج منها ما يراد منها وما تدلُّ عليه عقلاً وفطرةً وشرعاً.