اور اس کی قوم نے اس سے جھگڑا کیا، اس نے کہا کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ یقینا اس نے مجھے ہدایت دی ہے اور میں اس سے نہیں ڈرتا جسے تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو، مگر یہ کہ میرا رب کچھ چاہے، میرے رب نے ہر چیز کا احاطہ علم سے کر رکھا ہے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
En
اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔
اور ان سے ان کی قوم نے حجت کرنا شروع کیا، آپ نے فرمایا کیا تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے حجت کرتے ہو حاﻻنکہ اس نے مجھ کو طریقہ بتلا دیا ہے اور میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا ہاں اگر میرا پروردگار ہی کوئی امر چاہے میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے، کیا تم پھر بھی خیال نہیں کرتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَحَآجَّهٗقَوْمُهٗ١ؕقَالَاَتُحَآجُّوْٓنِّیْفِیاللّٰهِوَقَدْهَدٰؔىنِ ﴾”اور اس سے جھگڑا کیا اس کی قوم نے، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے ایک ہونے میں جھگڑتے ہو اور وہ مجھ کو سمجھا چکا“ یعنی اس شخص کے ساتھ جھگڑنے کا کون سا فائدہ ہے جس کے سامنے ہدایت واضح نہیں ہوئی رہا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا ہے اور وہ یقین کے بلند ترین مقام پر فائز ہے تو وہ خود لوگوں کو اس راستے کی طرف بلاتا ہے جس پر وہ خود گامزن ہے۔
﴿وَلَاۤاَخَافُمَاتُ٘شْ٘رِكُوْنَبِهٖۤ ﴾”اور میں نہیں ڈرتا ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو اس کے ساتھ“ کیونکہ یہ جھوٹے خدا مجھے کوئی نقصان نہیں دے سکتے، نہ مجھے کسی نفع سے محروم کر سکتے ہیں ﴿ اِلَّاۤاَنْیَّشَآءَؔرَبِّیْشَیْـًٔـا١ؕوَسِعَرَبِّیْكُ٘لَّشَیْءٍعِلْمًا١ؕاَفَلَاتَتَذَكَّـرُوْنَ ﴾”مگر یہ کہ چاہے اللہ، میرا رب۔ احاطہ کر لیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا، کیا تم نہیں نصیحت پکڑتے؟“ پس تم جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے جو کہ عبودیت کا مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وحاجَّه قومُه قال أتُحاجُّونِّي في الله وقد هدانِ}: أيُّ فائدةٍ لمحاجَّة من لم يتبيَّنْ له الهدى؟ فأما من هداه الله ووصلَ إلى أعلى درجات اليقين؛ فإنه هو بنفسه يدعو الناس إلى ما هو عليه. {ولا أخافُ ما تشرِكونَ به}: فإنَّها لن تضرَّني ولن تمنعَ عني من النفع شيئاً، {إلَّا أن يشاء ربِّي شيئاً وَسِعَ ربِّي كلَّ شيءٍ علماً أفلا تتذكَّرونَ}: فتعلمون أنه وحدَه المعبودُ المستحقُّ للعبودية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔