اور میں اس سے کیسے ڈروں جسے تم نے شریک بنایا ہے، حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ بے شک تم نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا ہے جس کی کوئی دلیل اس نے تم پر نہیں اتاری، تو دونوں گروہوں میں سے امن کا زیادہ حق دار کون ہے، اگر تم جانتے ہو۔
En
بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)
اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے حاﻻنکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی، سو ان دو جماعتوں میں سے امن کا زیاده مستحق کون ہے اگر تم خبر رکھتے ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَؔكَیْفَاَخَافُمَاۤاَشْرَؔكْتُمْ ﴾”اور میں کیوں کر ڈروں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو“ درانحالیکہ یہ معبودان باطل عاجز محض اور کسی قسم کا فائدہ پہنچانے سے محروم ہیں ﴿ وَلَاتَخَافُوْنَاَنَّـكُمْاَشْ٘رَؔكْتُمْبِاللّٰهِمَالَمْیُنَزِّلْبِهٖعَلَیْكُمْسُلْؔطٰنًا ﴾”اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم اللہ کا ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہو جس پر اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری“ یعنی سوائے خواہش نفس کی پیروی کے اس پر کوئی دلیل نہیں ﴿فَاَیُّالْ٘فَرِیْقَیْنِاَحَقُّبِالْاَمْنِ١ۚاِنْكُنْتُمْتَعْلَمُوْنَ﴾”پس کون سا گروہ امن کا زیادہ مستحق ہے اگر تم جانتے ہو؟“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكيف أخاف ما أشركتم}: وحالُها حالُ العجز وعدم النفع، {ولا تخافونَ أنَّكم أشركتُم بالله ما لم ينزِّلْ به عليكم سلطاناً}؛ أي: إلا بمجرَّد اتِّباع الهوى؟! {فأيُّ الفريقين أحقُّ بالأمن إن كنتُم تعلمونَ}؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔