تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 79

اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾
بے شک میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ایک (اللہ کی) طرف ہو کر اور میں مشرکوں سے نہیں۔ En
میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
En
میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کر، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا میں نے متوجہ کر لیا اپنے چہرے کو اسی کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین سب سے یکسو ہو کر یعنی صرف الٰہ واحد کی طرف یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہو کر اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر ﴿ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْ٘مُشْرِكِیْنَ اور میں نہیں ہوں شرک کرنے والا پس یوں ابراہیم علیہ السلام نے شرک سے براء ت کا اظہار کیا اور توحید کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور توحید پر دلیل قائم کی۔۔۔ یہ ہے ان آیات کریمہ کی تفسیر جو ہم نے بیان کی ہے۔ اور یہی صواب ہے۔ نیز یہ کہ یہ مقام جناب ابراہیم کی طرف سے اپنی قوم کے ساتھ مناظرے کا مقام تھا اور مقصد ان اجرام فلکی وغیرہ کی الوہیت کا بطلان تھا۔ رہا ان لوگوں کا موقف کہ یہ جناب ابراہیم کے ایام طفولیت میں غور و فکر کا مقام تھا تو اس پر کوئی دلیل نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إني وجهتُ وجهيَ للذي فطر السمواتِ والأرضَ حنيفاً}؛ أي: لله وحده، مقبلاً عليه، معرضاً عن من سواه، {وما أَنَا من المشركين}: فتبرَّأ من الشرك، وأذعن بالتوحيد، وأقام على ذلك البرهان.

وهذا الذي ذكرنا في تفسير هذه الآيات هو الصواب، وهو أنَّ المقامَ مقامُ مناظرةٍ من إبراهيم لقومِهِ وبيانُ بطلان إلهيَّة هذه الأجرام العلويَّة وغيرها، وأما من قال: إنه مقامُ نظرٍ في حال طفوليَّته؛ فليس عليه دليلٌ.