پھر جب اس نے سورج چمکتا ہوا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ غروب ہوگیا کہنے لگا اے میری قوم! بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔
En
پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وه بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَلَمَّارَاَالشَّ٘مْسَبَ٘ازِغَةًقَالَهٰؔذَارَبِّیْهٰؔذَاۤاَكْبَرُ ﴾”پس جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا، یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے“ یہ تمام (ستاروں اور چاند سے) بڑا ہے“﴿ فَلَمَّاۤاَفَلَتْ ﴾”جب وہ غروب ہوگیا۔“ یعنی جب سورج بھی غروب ہو گیا تو ہدایت متحقق ہو گئی اور ہلاکت مضمحل ہو گئی ﴿ قَالَیٰقَوْمِاِنِّیْبَرِیْٓءٌمِّمَّاتُ٘شْ٘رِكُوْنَ ﴾”(تو) کہا، اے میری قوم! بے شک میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو“ کیونکہ اس کے بطلان پر سچی اور واضح دلیل قائم ہو چکی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلما رأى الشمس بازغةً قال هذا ربِّي هذا أكبرُ}: من الكوكب ومن القمر، {فلما أفلتْ}: تقرَّر حينئذٍ الهُدى، واضمحل الرَّدى فـ {قال يا قوم إني بريءٌ مما تشركونَ}: حيث قام البرهانُ الصادق الواضح على بطلانِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔