پھر جب اس نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ غروب ہوگیا تو اس نے کہا یقینا اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ دی تو بلاشبہ میں ضرور گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں گا۔
En
پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں
پھر جب چاند کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے لیکن جب وه غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ کی تو میں گمراه لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَلَمَّارَاَالْ٘قَ٘مَرَبَ٘ازِغًا ﴾”پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے۔“ یعنی جب انھوں نے چاند کو طلوع ہوتے دیکھا اور یہ مشاہدہ بھی کیا کہ اس کی روشنی ستاروں کی روشنی سے زیادہ ہے اور یہ ان کے مخالف بھی ہے ﴿ قَالَهٰؔذَارَبِّیْ ﴾”کہا، یہ میرا رب ہے“ یعنی دلیل کی خاطر مخالفین کے مقام پر اتر کر کہا ﴿ فَلَمَّاۤاَفَلَقَالَلَىِٕنْلَّمْیَهْدِنِیْرَبِّیْلَاَكُوْنَنَّمِنَالْقَوْمِالضَّآلِّیْ٘نَ ﴾”جب وہ غائب ہو گیا، بولے، اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو میرا رب تو بے شک رہوں گا میں گمراہ لوگوں میں “ ابراہیم علیہ السلام اپنے رب کی راہنمائی کے بے حد محتاج تھے اور انھیں علم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو راہ راست نہ دکھائے تو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اگر اپنی اطاعت پر وہ ان کی اعانت نہ کرے تو کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلما رأى القمر بازغاً}؛ أي: طالعاً، ورأى زيادَتَه على نور الكواكب ومخالفته لها، {قال هذا ربِّي}: تنزُّلاً، {فلمَّا أفَلَ قال لَئِن لَمْ يَهْدِني ربِّي لأكوننَّ من القوم الضالين}: فافتقر غاية الافتقار إلى هداية ربِّه، وعلم أنه إن لم يهدِهِ الله؛ فلا هاديَ له، وإن لم يُعِنْه على طاعته؛ فلا معين له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔