تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 74

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً ۚ اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے؟ بے شک میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔ En
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو
En
اور وه وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟ بےشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے ﴿وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّؔخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے؟ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں ﴿اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَقَوْمَكَ فِیْ ضَلٰ٘لٍ مُّبِیْنٍ میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خالق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: واذكُرْ قصة إبراهيم عليه الصلاة والسلام مثنياً عليه ومعظماً في حال دعوته إلى التوحيد ونهيه عن الشرك. {إذ قال إبراهيمُ لأبيه آزَرَ أتتَّخِذُ أصناماً آلهةً}؛ أي: لا تنفع ولا تضرُّ، وليس لها من الأمر شيء، {إني أراك وقومَكَ في ضلال مبينٍ}: حيث عبدتُم مَن لا يستحقُّ من العبادة شيئاً، وتركتُم عبادةَ خاِلقِكُم ورازِقِكم ومدبِّرِكم.