تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾”اور اسی طرح“ جب ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿ نُرِیْۤاِبْرٰهِیْمَمَلَكُوْتَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات“ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِیَكُوْنَمِنَالْمُوْقِنِیْنَ ﴾”اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو“ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكذلك}: حين وفَّقناه للتوحيد والدعوة إليه، {نُري إبراهيمَ ملكوتَ السمواتِ والأرضِ}؛ أي: ليرى ببصيرتِهِ ما اشتملتْ عليه من الأدلة القاطعة والبراهين الساطعة، {وَلِيَكونَ من الموقنينَ}: فإنه بحسب قيام الأدلَّة يحصُلُ له الإيقان والعلم التامُّ بجميع المطالب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔