تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 75

وَ کَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لِیَکُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿۷۵﴾
اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے تھے اور تاکہ وہ کامل یقین والوں سے ہو جائے۔ En
اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں
En
اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَؔكَذٰلِكَ اور اسی طرح جب ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكذلك}: حين وفَّقناه للتوحيد والدعوة إليه، {نُري إبراهيمَ ملكوتَ السمواتِ والأرضِ}؛ أي: ليرى ببصيرتِهِ ما اشتملتْ عليه من الأدلة القاطعة والبراهين الساطعة، {وَلِيَكونَ من الموقنينَ}: فإنه بحسب قيام الأدلَّة يحصُلُ له الإيقان والعلم التامُّ بجميع المطالب.