تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 73

وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ۬ؕ قَوۡلُہُ الۡحَقُّ ؕ وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ ؕ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۷۳﴾
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور جس دن کہے گا ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جائے گا۔ اس کی بات ہی سچی ہے اور اسی کی بادشاہی ہوگی، جس دن صور میں پھونکا جائے گا، غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے اور وہی کمال حکمت والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے
En
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا اور جس وقت اللہ تعالیٰ اتنا کہہ دے گا تو ہوجا بس وه ہو پڑے گا۔ اس کا کہنا حق اور بااﺛر ہے۔ اور ساری حکومت خاص اسی کی ہوگی جب کہ صُور میں پھونک ماری جائے گی وه جاننے واﻻ ہے پوشیده چیزوں کا اور ﻇاہر چیزوں کا اور وہی ہے بڑی حکمت واﻻ پوری خبر رکھنے واﻻ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَهُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ تاکہ وہ بندوں کو حکم دے اور بعض چیزوں سے روکے پھر اس پر انھیں ثواب و عقاب دے ﴿ وَیَوْمَ یَقُوْلُ كُ٘نْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ اور جس دن کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گا، اس کا ارشاد برحق ہے۔ جس میں کوئی شک ہے نہ کوئی ایچ پیچ اور نہ اللہ تعالیٰ کوئی عبث بات کہتا ہے ﴿وَلَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَ٘خُ فِی الصُّوْرِ اور اسی کی بادشاہی ہے جس دن پھونکا جائے گا صور یعنی قیامت کے روز۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قیامت کے دن کا ذکر اس لیے کیا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے کیونکہ قیامت کے دن تمام ملکیتیں ختم ہو جائیں گی اور اللہ واحد و قہار کی ملکیت باقی رہ جائے گی۔ ﴿عٰؔلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ١ؕ وَهُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ وہ جاننے والا ہے چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی حکمت والا، خبردار ہے جو حکمت تام، نعمت کامل اور احسان عظیم کا مالک ہے، اس کا علم اسرار نہاں، باطنی راز اور چھپے ہوئے امور کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کے سوا کوئی معبود اور کوئی رب نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهو الذي خلق السموات والأرض بالحقِّ}: ليأمرَ العباد وينهاهم ويثيبَهم ويعاقِبَهم، {ويومَ يقولُ كُن فيكونُ قولُهُ الحقُّ}: الذي لا مِرْيَةَ فيه ولا مثنوية ولا يقولُ شيئاً عبثاً. {وله الملك يوم يُنفخ في الصور}؛ أي: يوم القيامة خصَّه بالذِّكر مع أنه مالك كل شيء؛ لأنه تنقطع فيه الأملاك، فلا يبقى مَلِكٌ إلا الله الواحد القهار. {عالم الغيب والشهادة وهو الحكيم الخبير}: الذي له الحكمة التامة، والنعمة السابغة، والإحسان العظيم، والعلم المحيط بالسرائر والبواطن والخفايا، لا إله إلا هو، ولا ربَّ سواه.