تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 67

لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۷﴾
ہر خبر کے لیے واقع ہونے کا ایک وقت ہے اور تم عنقریب جان لو گے۔ En
ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا
En
ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت ہے اور جلد ہی تم کو معلوم ہوجائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لِكُ٘لِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ یعنی ہر خبر کے استقرار کا ایک وقت اور ایک زمانہ ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ﴿ وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔ یعنی جس عذاب کی تمھیں وعید سنائی گئی ہے تم اسے عنقریب جان لو گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لكلِّ نبإٍ مستقرٌّ}؛ أي: وقتٌ يستقرُّ فيه وزمانٌ لا يتقدَّم عنه ولا يتأخر، {وسوف تعلمونَ}: ما توعدون به من العذاب.