تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 66

وَ کَذَّبَ بِہٖ قَوۡمُکَ وَ ہُوَ الۡحَقُّ ؕ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿ؕ۶۶﴾
اور اسے تیری قوم نے جھٹلا دیا، حالانکہ وہی حق ہے، کہہ دے میں ہرگز تم پر کوئی نگہبان نہیں۔ En
اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں
En
اور آپ کی قوم اس کی تکذیب کرتی ہے حاﻻنکہ وه یقینی ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم پر تعینات نہیں کیا گیا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَ کَذَّبَ بِهٖ اور اس کو جھٹلایا۔ یعنی قرآن کو جھٹلایا ﴿قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُ٘لْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَؔكِیْلٍ کہہ دیجیے! میں تم پر داروغہ نہیں ہوں کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور اس پر تمھیں بدلہ دوں میں تو صرف پہنچانے والا اور ڈرانے والا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكذَّب به}؛ أي: بالقرآن {قومُك وهو الحقُّ}: الذي لا مِرْيَةَ فيه ولا شك يعتريه. {قل لستُ عليكم بوكيل}: أحفظُ أعمالَكم وأجازيكم عليها، وإنَّما أنا منذرٌ ومبلِّغ.