اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں (فضول) بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کر، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ بات میں مشغول ہو جائیں اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ۔
En
اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو
اور جب آپ ان کو لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں سے کناره کش ہوجائیں یہاں تک کہ وه کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ﻇالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات میں جھگڑنے اور مشغول ہونے سے مراد ہے ان کے بارے میں ناحق باتیں کرنا، اقوال باطلہ کی تحسین کرنا، ان کی طرف دعوت دینا، اقوال باطلہ کے قائلین کی مدح کرنا، حق سے روگردانی کرنا اور حق اور اہل حق کی عیب چینی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور تبعاًتمام اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات کی مذکورہ عیب چینی میں مشغول دیکھیں تو اس سے اعراض کریں۔ باطل میں مشغول لوگوں کی مجالس میں نہ جائیں جب تک کہ وہ کسی اور بحث میں مشغول نہ ہو جائیں۔ اگر وہ آیات الٰہی کی بجائے کسی اور بحث میں مشغول ہوں تو ان میں بیٹھنا اس ممانعت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ اگر ان میں بیٹھنے میں کوئی راجح مصلحت ہو تو وہ ان میں بیٹھنے پر مامور ہے، اگر ایسا نہ ہو تو یہ بیٹھنا مفید ہے نہ وہ اس پر مامور ہے۔ باطل میں مشغولیت کی مذمت درحقیقت حق میں غور و فکر اور بحث و تحقیق کی ترغیب ہے۔
﴿ وَاِمَّایُنْسِیَنَّكَالشَّ٘یْطٰ٘نُ ﴾”اگر شیطان آپ کو بھلا دے۔“ یعنی اگر آپ کو شیطان بھلا دے اور آپ غفلت و نسیان کی وجہ سے ان کی مجلس میں بیٹھ جائیں ﴿ فَلَاتَقْعُدْبَعْدَالذِّكْرٰىمَعَالْقَوْمِالظّٰلِمِیْنَ ﴾”تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں۔“اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو باطل میں مشغول ہوتے ہیں جو ایسی باتیں کہتے یا کرتے ہیں جن کو حرام ٹھہرایا گیا ہے تو ان لوگوں میں بیٹھنا حرام ہے۔ منکرات کی موجودگی میں جبکہ وہ ان کے ازالے کی قدرت نہ رکھتا ہو، اس مجلس میں حاضر ہونا بھی ممنوع ہے۔
یہ نہی اور ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو ایسے لوگوں کی مجلس میں شریک ہوتا ہے اور تقویٰ کا دامن چھوڑ کر ان کے قول اور عمل محرم میں خود بھی شریک ہو جاتا ہے یا ان کے غیر شرعی افعال و اقوال پر خاموشی اختیار کرتا ہے اور ان پر نکیر نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ تقویٰ کا التزام کرتے ہوئے مجلس میں شریک ہو، شرکائے مجلس کو نیکی کا حکم دے، اس برائی اور بری گفتگو سے روکے جو اس مجلس میں صادر ہو، جس سے یہ برائی زائل ہو جائے یا اس میں تخفیف ہو جائے تو ایسی مجلس میں شریک ہونے میں کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المراد بالخوض في آيات الله التكلُّم بما يخالف الحقَّ من تحسين المقالات الباطلة والدعوة إليها ومدح أهلها والإعراض عن الحقِّ والقدح فيه وفي أهله؛ فأمر الله رسوله أصلاً وأمته تبعاً إذا رأوا من يخوض بآياتِ الله بشيء مما ذُكِرَ بالإعراض عنهم وعدم حضور مجالس الخائضين بالباطل والاستمرار على ذلك حتى يكونَ البحثُ والخوضُ في كلام غيره؛ فإذا كان في كلام غيره؛ زال النهي المذكور؛ فإن كان مصلحةً؛ كان مأموراً به، وإن كان غير ذلك؛ كان غير مفيد ولا مأمور به، وفي ذمِّ الخوض بالباطل حثٌّ على البحث والنظر والمناظرة بالحق.
ثم قال: {وإما ينسينَّك الشيطانُ}؛ أي: بأن جلستَ معهم على وجه النسيان والغفلة، {فلا تقعُدْ بعد الذِّكرى مع القوم الظالمين}: يشملُ الخائضين بالباطل وكلَّ متكلِّم بمحرَّم أو فاعل لمحرم؛ فإنه يحرم الجلوس والحضور عند حضور المنكر الذي لا يقدِرُ على إزالته، هذا النهي والتحريم لمن جلس معهم، ولم يستعمل تقوى الله بأن كان يشارِكُهم في القول والعمل المحرم أو يسكت عنهم وعن الإنكار؛ فإن استعمل تقوى الله تعالى بأن كان يأمرهم بالخير وينهاهم عن الشرِّ والكلام الذي يصدُرُ منهم؛ فيترتَّب على ذلك زوال الشر أو تخفيفه؛ فهذا ليس عليه حرجٌ ولا إثم، ولهذا قال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔