کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پائوں کے نیچے سے، یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے، دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ سمجھیں۔
En
کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں
آپ کہئے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروه گروه کرکے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے۔ آپ دیکھیے تو سہی ہم کس طرح دﻻئل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وه سمجھ جائیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا: ﴿ مِّنْفَوْقِكُمْاَوْمِنْتَحْتِاَرْجُلِكُمْ ﴾”تمھارے اوپر سے تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔“﴿ اَوْیَلْبِسَكُمْشِیَعًا ﴾”یا تمھیں فرقہ فرقہ کردے۔“ یعنی تمھیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے ﴿ وَّیُذِیْقَبَعْضَكُمْبَاْسَبَعْضٍ ﴾”اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی“ یعنی تمھیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لیے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں عذاب آ لے اور وہ تمھیں تلف کر کے تمھارا نام و نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ اس کی بے پایاں رحمت کا فیضان ہے کہ اس نے اس امت پر سے اوپر سے پتھر برسنے اور نیچے زمین میں دھنس جانے کے عذاب کو اٹھا لیا ہے۔ اس نے اس امت میں سے جس کسی کو بھی عذاب کا مزا چکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھایا ہے۔ اور ان کو ان سزاؤں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط کر دیا یہ ایک ایسی فوری سزا ہے جسے عبرت پکڑنے والے دیکھ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے اسے سمجھ سکتے ہیں۔
﴿ اُنْ٘ظُ٘رْؔكَیْفَنُ٘صَرِّفُالْاٰیٰتِ ﴾”دیکھو ہم آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں۔“ یعنی ہم ان آیات کو مختلف انواع میں لاتے ہیں اور انھیں بہت سے پہلوؤں سے ان کو بیان کرتے ہیں۔ یہ تمام آیات حق پر دلالت کرتی ہیں ﴿ لَعَلَّهُمْیَفْقَهُوْنَ ﴾”تاکہ یہ لوگ سمجھیں۔“ یعنی شاید وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ انھیں کس چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ نیز حقائق شرعیہ اور مطالب الہٰیہ ان کی سمجھ میں آ جائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: هو تعالى قادرٌ على إرسال العذاب إليكم من كل جهة، {من فوقِكم أو من تحتِ أرجُلِكم أو يَلْبِسَكُم}؛ أي: يَخْلُطَكم {شيعاً ويذيقَ بعضَكم بأسَ بعض}؛ أي: في الفتنة وقتل بعضكم بعضاً؛ فهو قادر على ذلك كله؛ فاحذروا من الإقامة على معاصيه فيصيبكم من العذاب ما يتلفكم ويمحقكم، ومع هذا؛ فقد أخبر أنه قادر على ذلك، ولكن من رحمته أن رفع عن هذه الأمة العذاب من فوقهم بالرجم والحصب ونحوه ومن تحت أرجلهم بالخسف، ولكن عاقَبَ من عاقَبَ منهم بأن أذاق بعضهم بأس بعض وسلَّط بعضهم على بعض بهذه العقوبات المذكورة عقوبةً عاجلةً يراها المعتبرون ويشعر بها العاملون. {انظر كيف نصرِّفُ الآياتِ}؛ أي: ننوِّعُها ونأتي بها على أوجهٍ كثيرةٍ، وكلُّها دالةٌ على الحق، {لعلَّهم يفقهون}؛ أي: يفهمون ما خُلقوا من أجله ويفقهون الحقائق الشرعية والمطالب الإلهية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔