تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 64

قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡہَا وَ مِنۡ کُلِّ کَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۴﴾
کہہ دے اللہ تمھیں اس سے نجات دیتا ہے اور ہر بے قراری سے، پھر تم شریک بناتے ہو۔ En
کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو
En
آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے اور ہر غم سے، تم پھر بھی شرک کرنے لگتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّؔنْهَا وَمِنْ كُ٘لِّ كَرْبٍ کہہ دیجیے! اللہ ہی تمھیں اس (خاص مصیبت) اور دیگر تمام مصائب سے نجات دلاتا ہے ﴿ ثُمَّ اَنْتُمْ تُ٘شْ٘رِكُوْنَ پھر بھی تم شرک کرتے ہو تم اللہ کے بارے میں جو کہتے ہو اسے پورا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کر دیتے ہو۔ پس شرک کے بطلان اور توحید کی صحت پر اس سے واضح اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل الله ينجيكم منها ومن كل كربٍ}؛ أي: من هذه الشدة الخاصة، ومن جميع الكروب العامة، {ثم أنتم تشركونَ}: لا تفون لله بما قلتُم، وتنسَوْن نعمه عليكم؛ فأي برهان أوضح من هذا على بطلان الشرك وصحة التوحيد.