تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 63

قُلۡ مَنۡ یُّنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ تَدۡعُوۡنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ۚ لَئِنۡ اَنۡجٰىنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۳﴾
کہہ کون تمھیں خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات دیتا ہے؟ تم اسے گڑ گڑا کر اور خفیہ طریقے سے پکارتے ہو کہ بے شک اگر وہ ہمیں اس سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر ادا کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ En
کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں
En
آپ کہئے کہ وه کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ﻇلمات سے نجات دیتا ہے۔ تم اس کو پکارتے ہو گڑگڑا کر چپکے چپکے، کہ اگر تو ہم کو ان سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ کہہ دیجیے یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ﴿ مَنْ یُّؔنَؔجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰؔتِ الْـبَرِّ وَالْبَحْرِ کون تمھیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمھیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لیے پکارتے رہے ہو۔ اور اپنی اس مصیبت کی حالت میں کہتے ہو ﴿ لَىِٕنْ اَنْجٰؔىنَا مِنْ هٰؔذِهٖ اگر اس نے ہمیں بچا لیا اس سے یعنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں ﴿ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ) کے شکر گزار ہوں گے یعنی اس کی نعمت کا اعتراف کریں گے اور اس نعمت کو اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں گے اور اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے بچیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قل}: للمشركين بالله الداعين معه آلهةً أخرى ملزماً لهم بما أثبتوه من توحيد الربوبية على ما أنكروه من توحيد الإلهية، {مَنْ يُنَجِّيكم من ظلماتِ البرِّ والبحر}؛ أي: شدائدهما ومشقاتهما وحين يتعذَّر أو يتعسَّر عليكم وجه الحيلة، فتدعون ربكم تضرُّعاً بقلبٍ خاضع ولسان لا يزال يَلْهَجُ بحاجته في الدُّعاء وتقولون وأنتم في تلك الحال: {لَئِنْ أنجانا من هذه}: الشدة التي وقعنا فيها، {لَنَكونَنَّ من الشاكرينَ}: لله؛ أي: المعترفين بنعمتِهِ، الواضعينَ لها في طاعة ربِّهم، الذين حفظوها عن أن يبذلوها في معصيته.