اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، پھر جو شخص ایمان لے آئے اور اصلاح کر لے تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
En
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے اور ڈرانے کو پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے
اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وه بشارت دیں اور ڈرائیں پھر جو ایمان لے آئے اور درستی کرلے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وه مغموم ہوں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز کا خلاصہ بیان فرماتا ہے جس کے ساتھ اس نے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے تبشیر اور انذار۔ یہ چیز مُبَشِّرْ،مُبَشَّرْبِہ اور ان اعمال کے بیان کو مستلزم ہے کہ جب بندہ ان کو بجا لاتا ہے تو اسے بشارت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ مُنْذِر،مُنْذَرْبِہ اور ایسے اعمال کے بیان کو لازم قرار دیتی ہے کہ بندہ جب ان اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو انذار کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لوگ انبیا و مرسلین کی دعوت پر لبیک کہنے یا ان کی دعوت کا جواب نہ دینے کے اعتبار سے دو اقسام میں منقسم ہیں: ﴿ فَ٘مَنْاٰمَنَوَاَصْلَ٘حَ ﴾”پھر جو شخص ایمان لائے اور اصلاح کر لے۔“ یعنی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے ایمان، اعمال اور نیت کی اصلاح کرتے ہیں ﴿ فَلَاخَوْفٌعَلَیْهِمْ ﴾”تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔“ آنے والے امور سے انھیں کوئی خوف نہ ہو گا ﴿ وَلَاهُمْیَحْزَنُوْنَ ﴾”اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔“ اور گزرے ہوئے امور پر وہ غمزدہ نہ ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى زبدةَ ما أرسل به المرسلين أنَّه البِشارة والنِّذارة، وذلك مستلزمٌ لبيان: المبشِّر والمبَشَّر به والأعمال التي إذا عملها العبدُ حصلت له البشارة، والمنْذِر والمنذَر والمنْذَر به والأعمال التي من عَمِلَها حقَّت عليه النِّذارة، ولكن الناس انقَسموا بحسب إجابتهم لدعوتهم وعدمها إلى قسمين: {فَمنْ آمنَ وأصلحَ}؛ أي: آمن باللهِ وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر، وأصلح إيمانه وأعماله ونيَّته، {فلا خوفٌ عليهم}: فيما يُستقبل، {ولا هم يحزنونَ}: على ما مضى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔