تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْاَرَءَیْتَكُمْ ﴾ یعنی مجھے خبر دو ﴿ اِنْاَتٰىكُمْعَذَابُاللّٰهِبَغْتَةًاَوْجَهْرَةً ﴾”اگر تم پر اللہ کا عذاب بے خبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ جائے یا اس عذاب کے مقدمات ظاہر ہو جائیں جن سے تمھیں اس عذاب کے وقوع کا علم ہو جائے ﴿ هَلْیُهْلَكُاِلَّاالْقَوْمُالظّٰلِمُوْنَ ﴾”تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا۔“ یعنی وہی ظالم لوگ ہلاک ہوں گے جو اپنے ظلم و عناد کی وجہ سے اس عذاب کے وقوع کا سبب بنے۔ اس لیے ظلم پر قائم رہنے سے بچو کیونکہ ظلم ابدی ہلاکت اور دائمی بدبختی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل أرأيْتَكُم}؛ أي: أخبروني {إن أتاكم عذابُ الله بغتةً أو جهرةً}؛ أي: مفاجأةً أو قد تقدَّم أمامه مقدماتٌ تعلمون بها وقوعَه، {هل يُهْلَكُ إلَّا القومُ الظالمون}: الذين صاروا سبباً لوقوع العذابِ بهم بظلمِهم وعنادِهم؛ فاحذروا أن تقيموا على الظُّلم؛ فإنه الهلاك الأبدي، والشقاءُ السرمديُّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔