تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 47

قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
کہہ کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آجائے، کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی ہلاک کیا جائے گا؟ En
کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟
En
آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ پڑے خواه اچانک یا اعلانیہ تو کیا بجز ﻇالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ اَرَءَیْتَكُمْ یعنی مجھے خبر دو ﴿ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً اگر تم پر اللہ کا عذاب بے خبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ جائے یا اس عذاب کے مقدمات ظاہر ہو جائیں جن سے تمھیں اس عذاب کے وقوع کا علم ہو جائے ﴿ هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا۔ یعنی وہی ظالم لوگ ہلاک ہوں گے جو اپنے ظلم و عناد کی وجہ سے اس عذاب کے وقوع کا سبب بنے۔ اس لیے ظلم پر قائم رہنے سے بچو کیونکہ ظلم ابدی ہلاکت اور دائمی بدبختی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل أرأيْتَكُم}؛ أي: أخبروني {إن أتاكم عذابُ الله بغتةً أو جهرةً}؛ أي: مفاجأةً أو قد تقدَّم أمامه مقدماتٌ تعلمون بها وقوعَه، {هل يُهْلَكُ إلَّا القومُ الظالمون}: الذين صاروا سبباً لوقوع العذابِ بهم بظلمِهم وعنادِهم؛ فاحذروا أن تقيموا على الظُّلم؛ فإنه الهلاك الأبدي، والشقاءُ السرمديُّ.