تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 44

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ ﴿۴۴﴾
پھر جب وہ اس کو بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انھیں دی گئی تھیں، ہم نے انھیں اچانک پکڑ لیا تو اچانک وہ ناامید تھے۔ En
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے
En
پھر جب وه لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشاده کردئے یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں وه خوب اترا گئے ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وه بالکل مایوس ہوگئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُ٘لِّ شَیْءٍ پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی تو کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے یعنی ان پر دنیا، اس کی لذتوں اور اس کی غفلتوں کے دروازے کھول دیے ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو ان کو دی گئیں تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا، پس اس وقت وہ ناامید ہو کر رہ گئے یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو گئے۔ یہ عذاب کی سخت ترین نوعیت ہے کہ انھیں اچانک غفلت اور اطمینان کی حالت میں پکڑ لیا جائے تاکہ ان کی سزا سخت اور مصیبت بہت بڑی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا نَسُوا ما ذُكِّروا به فَتَحْنا عليهم أبوابَ كلِّ شيءٍ}: من الدنيا ولذَّاتها وغفلاتها، {حتى إذا فرحوا بما أوتوا أخَذْناهم بغتةً فإذا هم مُبْلِسونَ}؛ أي: آيسون من كل خيرٍ، وهذا أشدُّ ما يكون من العذاب: أن يُؤْخَذوا على غِرَّةٍ وغفلةٍ وطمأنينةٍ؛ ليكون أشد لعقوبتهم، وأعظم لمصيبتهم.