تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 45

فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۵﴾
تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ En
غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)
En
پھر ﻇالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَ٘قُ٘طِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا پھر کٹ گئی جڑ ظالموں کی یعنی عذاب سے وہ برباد ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے ﴿وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر نے جھٹلانے والوں کی جو ہلاکت مقدر کی ہے اس پر پروردگار عالم کی تعریف ہے۔ کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے اولیا کی عزت و تکریم، اس کے دشمنوں کی ذلت و رسوائی اور رسولوں کی تعلیمات کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فقُطِعَ دابرُ القوم الذين ظلموا}؛ أي: اصطلموا العذاب، وتقطَّعت بهم الأسباب {والحمدُ لله ربِّ العالمين}: على ما قضاه وقدَّره من هلاك المكذِّبين؛ فإنَّ بذلك تتبيَّن آياتُهُ وإكرامُهُ لأوليائِهِ، وإهانتُهُ لأعدائِهِ، وصدقُ ما جاءت به المرسلون.