تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَ٘قُ٘طِعَدَابِرُالْقَوْمِالَّذِیْنَظَلَمُوْا ﴾”پھر کٹ گئی جڑ ظالموں کی“ یعنی عذاب سے وہ برباد ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے ﴿وَالْحَمْدُلِلّٰهِرَبِّالْعٰلَمِیْنَ ﴾”اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے“ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر نے جھٹلانے والوں کی جو ہلاکت مقدر کی ہے اس پر پروردگار عالم کی تعریف ہے۔ کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے اولیا کی عزت و تکریم، اس کے دشمنوں کی ذلت و رسوائی اور رسولوں کی تعلیمات کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فقُطِعَ دابرُ القوم الذين ظلموا}؛ أي: اصطلموا العذاب، وتقطَّعت بهم الأسباب {والحمدُ لله ربِّ العالمين}: على ما قضاه وقدَّره من هلاك المكذِّبين؛ فإنَّ بذلك تتبيَّن آياتُهُ وإكرامُهُ لأوليائِهِ، وإهانتُهُ لأعدائِهِ، وصدقُ ما جاءت به المرسلون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔