پھر انھوں نے کیوں عاجزی نہ کی، جب ان پر ہمارا عذاب آیا اور لیکن ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے لیے خوش نما بنا دیا جو کچھ وہ کرتے تھے۔
En
تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا
سو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تھی تو انہوں نے عاجزی کیوں نہیں اختیار کی؟ لیکن ان کے قلوب سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کردیا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَلَوْلَاۤاِذْجَآءَهُمْبَاْ٘سُنَاتَضَرَّعُوْاوَلٰكِنْقَسَتْقُ٘لُوْبُهُمْ ﴾”پس کیوں نہ گڑگڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا لیکن سخت ہو گئے دل ان کے“ یعنی ان کے دل پتھر ہو گئے ہیں جو حق کے سامنے نرم نہیں پڑتے ﴿ وَزَیَّنَلَهُمُالشَّ٘یْطٰ٘نُمَاكَانُوْایَعْمَلُوْنَ ﴾”اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے“ اس لیے وہ سمجھتے رہے کہ جس راستے پر وہ گامزن ہیں یہی دین حق ہے، پس وہ اپنے باطل میں غلطاں کچھ عرصہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور شیطان ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلولا إذ جاءهم بأسنا تضرعوا ولكن قست قلوبهم}؛ أي: استحجرت فلا تلين للحقِّ، {وزيَّن لهم الشيطانُ ما كانوا يعملونَ}: فظنُّوا أنَّ ما هم عليه دينُ الحق، فتمتَّعوا في باطلهم برهةً من الزمان، ولعب بعقولهم الشيطان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔