تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 42

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر انھیں تنگ دستی اور تکلیف کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ عاجزی کریں۔ En
اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں
En
اور ہم نے اور امتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گزر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے، سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وه اﻇہار عجز کرسکیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انھوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا ﴿ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے۔ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی ﴿ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ تاکہ وہ عاجزی کریں۔ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑگڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ولقد أرْسَلْنا إلى أمم من قبلِكَ}: من الأمم السالفينَ، والقرونِ المتقدِّمينَ، فكذَّبوا رُسَلنا، وجحدوا بآياتنا، {فأخذْناهم بالبأساءِ والضَّرَّاء}؛ أي: بالفقر والمرض والآفات والمصائب رحمةً منَّا بهم، {لعلَّهم يَتَضَرَّعونَ} إلينا، ويلجؤون عند الشدةِ إلينا.