بلکہ تم اسی کو پکاروگے، تو وہ دور کر دے گا جس کی طرف تم اسے پکارو گے، اگر اس نے چاہا اور تم بھول جاؤ گے جو شریک بناتے ہو۔
En
بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ بَلْاِیَّ٘اهُتَدْعُوْنَفَیَكْشِفُمَاتَدْعُوْنَاِلَیْهِاِنْشَآءَوَتَنْسَوْنَمَاتُ٘شْ٘رِكُوْنَ ﴾”بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو، پھر دور کر دیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لیے اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہے اور ان کو بھول جاتے ہو جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو“ جب سختیوں کے وقت تمھارا اپنے معبودوں کے بارے میں یہ حال ہے کہ تم ان کو بھول جاتے ہو کیونکہ تمھیں علم ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں اور تم نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی ہے جو مجبور کی دعا قبول کرتا ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ فراخی اور خوشحالی کے وقت تم شرک کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہو۔ کیا عقل یا نقل نے تمھیں اس راہ پر لگایا ہے یا تمھارے پاس کوئی دلیل ہے یا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑ رہے ہو؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{بل إيَّاه تدعونَ فيكشِفُ ما تدعونَ إليه إن شاءَ وَتَنْسَوْنَ ما تُشْرِكون}: فإذا كانت هذه حالُكم مع أندادِكُم عند الشدائد؛ تَنْسَوْنَهم لعلمِكُم أنهم لا يملِكون لكم ضَرًّا ولا نفعاً ولا موتاً ولا حياة ولا نشوراً، وتخلِصونَ لله الدعاءَ؛ لِعلْمِكُم أنَّه هو الضارُّ النافعُ المجيبُ لدعوةِ المضطرِّ؛ فما بالُكم في الرخاء تُشْرِكونَ به وتجعلونَ له شركاء؟! هل دلَّكم على ذلك عقلٌ أو نقلٌ؟ أم عندَكم من سلطان بهذا؟ أم تفترونَ على الله الكذب؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔