اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں، جسے اللہ چاہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھے راستے پر لگا دیتا ہے۔
En
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے
اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وه تو طرح طرح کی ﻇلمتوں میں بہرے گونگے ہو رہے ہیں، اللہ جس کو چاہے بے راه کردے اور وه جس کو چاہے سیدھی راه پر لگا دے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا حال بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے ہلاکت کے دروازے کھول لیے۔ اور وہ ﴿ صُمٌّ ﴾”بہرے“ یعنی حق سننے سے بہرے ہیں ﴿ بُكْمٌ ﴾”گونگے“ یعنی حق بولنے سے گونگے ہیں، پس باطل کے سوا کچھ نہیں بولتے ﴿ فِیالظُّلُمٰتِ ﴾”اندھیروں میں “ یعنی جہالت، کفر، ظلم، عناد اور نافرمانی کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا ان کو گمراہ کر دینا ہے۔ کیونکہ ﴿ مَنْیَّشَاِاللّٰهُیُضْلِـلْهُ١ؕوَمَنْیَّشَاْیَجْعَلْهُعَلٰىصِرَاطٍمُّسْتَقِیْمٍ ﴾”وہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے“ کیونکہ وہی اکیلا اپنی حکمت اور فضل و کرم کے تقاضوں کے مطابق ہدایت دیتا یا گمراہ کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا بيانٌ لحال المكذِّبين بآيات الله المكذِّبين لرسله: أنَّهم قد سدُّوا على أنفسهم باب الهُدى، وفتحوا باب الرَّدى، وأنهم {صُمٌّ} عن سماع الحقِّ، {بُكْمٌ} عن النُّطق به؛ فلا ينطِقون إلا بالباطل ، {في الظُّلمات}؛ أي: منغمِسون في ظلمات الجهل والكفر والظُّلم والعناد والمعاصي، وهذا من إضلال اللهِ إيَّاهم؛ فمن {يَشَإِ اللهُ يُضْلِلْهُ ومن يَشَأ يَجْعَلْهُ على صراطٍ مستقيم}؛ لأنَّه المنفرد بالهداية والإضلال بحسبِ ما اقتضاه فضله وحكمته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔