تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 34

وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۳۴﴾
اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسول جھٹلائے گئے تو انھوں نے اس پر صبر کیا کہ وہ جھٹلائے گئے اور ایذا دیے گئے، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اور کوئی اللہ کی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور بلاشبہ یقینا تیرے پاس ان رسولوں کی کچھ خبریں آئی ہیں۔ En
اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)
En
اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جا چکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو پہنچی اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے واﻻ نہیں اور آپ کے پاس بعض پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انھوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی پس جس طرح انھوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفریاب ہوئے آپ بھی ظفریاب ہوں گے: ﴿وَلَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ آپ کے پاس گزشتہ انبیا و مرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد كُذِّبَتْ رسلٌ من قبلك فصبروا على ما كُذِّبوا وأوذوا حتى أتاهم نصرُنا}: فاصبرْ كما صبروا؛ تظفرْ كما ظفروا، {ولقد جاءك من نبإِ المرسلين}؛ ما به يَثْبُتُ فؤادُك، ويطمئنُّ به قلبك.