تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 33

قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّہٗ لَیَحۡزُنُکَ الَّذِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۳۳﴾
بے شک ہم جانتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ یقینا تجھے وہ بات غمگین کرتی ہے جو وہ کہتے ہیں، تو بے شک وہ تجھے نہیں جھٹلاتے اور لیکن وہ ظالم اللہ کی آیات ہی کا انکار کرتے ہیں۔ En
ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں
En
ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ﻇالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لیے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے ﴿ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ کو امین کہا کرتے تھے ﴿ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قد نعلم أنَّ الذي يقول المكذِّبون فيك يَحْزُنُك ويسوؤك، ولم نأمُرْك بما أمَرْناك به من الصبر إلاَّ لِتَحْصَلَ لك المنازلُ العالية، والأحوال الغاليةُ؛ فلا تظنَّ أنَّ قولَهم صادرٌ عن اشتباهٍ في أمرك وشكٍّ فيك؛ {فإنَّهم لا يكذِّبونَك}: لأنهم يعرفون صِدْقَكَ ومَدْخَلَك ومَخْرَجَك وجميع أحوالك، حتى إنَّهم كانوا يسمُّونه قبل بعثتِهِ الأمين، {ولكنَّ الظالمينَ بآياتِ الله يَجْحَدونَ}؛ أي: فإنَّ تكذيبهم لآيات الله التي جعلها الله على يديك.