تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 35

وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَمَعَہُمۡ عَلَی الۡہُدٰی فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۵﴾
اور اگر تجھ پر ان کا منہ پھیرنا بھاری گزرا ہے تو اگر تو کر سکے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ نکالے، پھر ان کے پاس کوئی نشانی لے آئے (تو لے آ) اور اگر اللہ چاہتا تو یقینا انھیں ہدایت پر جمع کر دیتا۔ پس تو جاہلوں میں سے ہرگز نہ ہو۔ En
اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا
En
اور اگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ لو پھر کوئی معجزه لے آؤ تو کرو اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو ان سب کو راه راست پر جمع کر دیتا سو آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھیے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ ﴿ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَ٘بْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ پس اگر آپ سے ہو سکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کے معاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ ﴿ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰؔى اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں ﴿ فَلَا تَكُ٘وْنَنَّ مِنَ الْجٰؔهِلِیْ٘نَ پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإن كان كَبُرَ عليك إعراضُهم}؛ أي: شقَّ عليك من حرصِك عليهم ومحبَّتِك لإيمانهم؛ فابذلْ وسعكَ في ذلك؛ فليس في مقدورك أن تهدي من لم يُرِدِ الله هدايَتَه. {فإنِ استطعتَ أن تبتغيَ نفقاً في الأرض أو سُلَّماً في السماء فتأتيهم بآية}؛ أي: فافعل ذلك؛ فإنه لا يفيدُهم شيئاً، وهذا قطعٌ لطمعه في هدايته أشباه هؤلاء المعاندين، {ولو شاء الله لَجَمعهم على الهُدى}: ولكنَّ حكمته تعالى اقتضت أنَّهم يَبْقَوْن على الضلال، {فلا تكوننَّ من الجاهلينَ}: الذين لا يعرِفون حقائق الأمور ولا ينزِلونها على منازلها.