تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 32

وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ وَ لَلدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۲﴾
اور دنیا کی زندگی کھیل اور دل لگی کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت کا گھران لوگوں کے لیے بہتر ہے جو ڈرتے ہیں، تو کیا تم نہیں سمجھتے۔ En
اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں
En
اور دنیاوی زندگانی تو کچھ بھی نہیں بجز لہو ولعب کے۔ اور دار آخرت متقیوں کے لئے بہتر ہے۔ کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہی دنیا اور آخرت کی حقیقت ہے۔ رہی دنیا کی حقیقت تو یہ محض لہو و لعب ہے۔ بدن کا کھیل تماشہ۔ اور قلب کا کھیل تماشہ، پس دل لہو و لعب پر فریفتہ، نفوس اس پر عاشق اور ارادے اس سے پیوست رہتے ہیں اور لہو و لعب میں مشغولیت اس میں ایسے ہوتی ہے جیسے بچے کھیل میں مگن ہوتے ہیں۔ رہی آخرت تو وہ ﴿ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ اپنی ذات و صفات اور بقا و دوام کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے لیے بہتر ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے،جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی قلب و روح کی نعمت اور مسرت و فرحت کی کثرت۔ مگر یہ نعمتیں اور مسرتیں ہر ایک کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ صرف متقی لوگوں کے لیے ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کی منہیات کو ترک کرتے ہیں ﴿ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ کیا تمھارے پاس عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم یہ ادراک کر سکو کہ دنیا اور آخرت میں سے کون سا گھر ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه حقيقة الدُّنيا وحقيقة الآخرة: أما حقيقة الدنيا؛ فإنها لعب ولهو، لعب في الأبدان، ولهو في القلوب؛ فالقلوب لها والهةٌ، والنفوس لها عاشقةٌ، والهموم فيها متعلقةٌ، والاشتغال بها كلعب الصبيان. وأما الآخرة؛ فإنَّها {خيرٌ للذين يتَّقون}؛ في ذاتها وصفاتها، وبقائها ودوامها، وفيها ما تشتهيه الأنفُسُ وتَلَذُّ الأعينُ؛ من نعيم القلوب والأرواح، وكثرة السرور والأفراح، ولكنها ليست لكلِّ أحدٍ، وإنما هي للمتَّقين، الذين يفعلون أوامر الله، ويتركون نواهِيَهُ وزواجِرَه، {أفلا تعقِلون}؛ أي: أفلا يكون لكم عقولٌ بها تدرِكون أيَّ الدارين أحق بالإيثارِ؟!