تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اُنْ٘ظُ٘رْؔ ﴾”دیکھیے“ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھیے ﴿ كَیْفَكَذَبُوْاعَلٰۤىاَنْفُسِهِمْ ﴾”کیسے جھوٹ بولا انھوں نے اپنے پر“ یعنی انھوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ… اللہ کی قسم!… اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انھی کو پہنچے گا ﴿ وَضَلَّعَنْهُمْمَّاكَانُوْایَفْتَرُوْنَ ﴾”اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے“ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس افتراپردازی سے بالا و بلند تر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{انظر}: متعجباً منهم ومن أحوالهم، {كيف كَذَبوا على أنفسهم}؛ أي: كذبوا كذباً عاد بالخَسارِ على أنفسهم وضَرَّهُم ـ واللهِ ـ غايةَ الضَّرر، {وَضَلَّ عنهم ما كانوا يفترونَ}: من الشُّركاء الذين زعَموهم مع الله، تعالى الله عن ذلك علوًّا كبيراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔