(آیت 24) {اُنْظُرْكَيْفَكَذَبُوْا …:} یعنی وہاں ان کا شرک ان کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کے بنائے ہوئے حاجت روا اور مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 لیکن وہاں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جس طرح بعض دفعہ دنیا میں انسان ایسا محسوس کرتا ہے اسی طرح ان کے معبودان باطل بھی، جن کو اللہ کا شریک اپنا حمائتی و مددگار اور سفارشی سمجھتے تھے، غائب ہونگے اور وہاں ان پر شرکا کی حقیقت واضح ہوگی، لیکن وہاں اس کے ازالے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ دیکھئے وہ کیسے اپنے متعلق جھوٹ بکیں گے اور جو کچھ وہ افترا [27] کرتے تھے سب انہیں بھول جائے گا
[27] یعنی اس دن کی دہشت اور اپنی بے بسی اور درماندگی کی بنا پر اپنے بچاؤ کی یہی راہ انہیں سجھائی دے گی کہ اس سے صاف مکر جائیں اور دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے تھے دہشت کی وجہ سے سب بھول جائیں گے انہیں یہ یاد ہی نہ پڑے گا کہ وہ دنیا میں کس کس کو پوجتے اور کس کس قسم کا شرک کیا کرتے تھے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اُنْ٘ظُ٘رْؔ ﴾”دیکھیے“ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھیے ﴿ كَیْفَكَذَبُوْاعَلٰۤىاَنْفُسِهِمْ ﴾”کیسے جھوٹ بولا انھوں نے اپنے پر“ یعنی انھوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ… اللہ کی قسم!… اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انھی کو پہنچے گا ﴿ وَضَلَّعَنْهُمْمَّاكَانُوْایَفْتَرُوْنَ ﴾”اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے“ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس افتراپردازی سے بالا و بلند تر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{انظر}: متعجباً منهم ومن أحوالهم، {كيف كَذَبوا على أنفسهم}؛ أي: كذبوا كذباً عاد بالخَسارِ على أنفسهم وضَرَّهُم ـ واللهِ ـ غايةَ الضَّرر، {وَضَلَّ عنهم ما كانوا يفترونَ}: من الشُّركاء الذين زعَموهم مع الله، تعالى الله عن ذلك علوًّا كبيراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔