تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 23

ثُمَّ لَمۡ تَکُنۡ فِتۡنَتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۲۳﴾
پھر ان کا فریب اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے اللہ کی قسم! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔ En
تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے
En
پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوگا کہ وه یوں کہیں گے کہ قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی ہم مشرک نہ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ لَمْ تَكُ٘نْ فِتْنَتُهُمْ پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہو گا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کر دیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم لم تكن فتنتُهم}؛ أي: لم يكن جوابُهم حين يُفتنون ويُختبرون بذلك السؤال إلاَّ إنكارَهم لشِرْكهم وحَلِفَهم أنهم ما كانوا مشركين.