اور وه وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم ان تمام خلائق کو جمع کریں گے، پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وه شرکا، جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے، کہاں گئے؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا ﴿اَیْنَشُ٘رَؔكَآؤُكُمُالَّذِیْنَكُنْتُمْتَزْعُمُوْنَ ﴾”تمھارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں، یہ محض زعم باطل اور تمھاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن مآل أهل الشرك يوم القيامة، وأنهم يُسْألون ويُوَبَّخُونَ فيُقال لهم: أين شركائي الذين كُنْتُم تزعمونَ؛ أي: إن الله ليس له شريك، وإنَّما ذلك على وجه الزعم منهم والافتراء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔